پشاور: کرونا کے پھیلاؤ کے بعد کئی علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن
خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور کے چار علاقوں میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر پشاور محمد علی اصغر نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے۔ اسمارٹ لاک ڈاؤن اشرفیہ کالونی، چنار روڈ یونیورسٹی ٹاؤن، دانش آباد اور سیکٹر ای ٹو فیز ون حیات آباد میں نافذ کیا گیا ہے۔
اسمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران ان علاقوں میں آمد و رفت بند رہے گی۔ مذکورہ علاقوں میں اشیائے خور و نوش، میڈیسن، جنرل اسٹور، تندور اور ایمرجنسی سروسز کی دکانیں کھلی رہیں گی جب کہ باقی تمام دکانیں کھولنے پر پابندی ہو گی۔
ان علاقوں کی مساجد میں صرف پانچ افراد کو باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت ہو گی۔
علاقہ مجسٹریٹ اور پولیس کو اسمارٹ لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کے حوالے سے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
این سی او سی نے 20 شہروں کو ہاٹ اسپاٹس قرار دے دیا، انتظامات سخت کرنے کی تجویز
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے 20 شہروں کی نشان دہی کی ہے جو کرونا وائرس کے ہاٹ اسپاٹس بن رہے ہیں۔ این سی او سی نے ان شہروں میں انتظامات سخت کرنے کی سفارش کی ہے۔
این سی او سی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ٹیسٹنگ, ٹریسنگ اور کورنٹائن (ٹی ٹی کیو) کی حکمتِ عملی کے تحت مُلک کے 20 شہروں کی نشان دہی کی گئی ہے جن میں کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
این سی او سی کے مطابق اسلام آباد کے علاقے جی نائن ٹو اور جی نائن تھری میں 300 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ آئی ایٹ، آئی ٹین، غوری ٹاؤن، بارہ کہو، جی سکس اور جی سیون کے علاقے اسلام آباد میں کرونا کیسز کے نئے ہاٹ اسپاٹس ہیں۔
این سی او سی کی جانب سے جن شہروں میں مزید انتظامات کی سفارش کی گئی ہے ان میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور اور راولپنڈی بھی شامل ہیں۔
- By روشن مغل
پاکستانی کشمیر میں کرونا کیسز میں اضافے پر ماہرینِ صحت کو تشویش
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ ایک ماہ سے کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
مئی کے وسط تک پاکستانی کشمیر میں کرونا کے مریضوں کی تعداد صرف 100 تھی اور صرف ایک شخص کی وائرس سے موت ہوئی تھی۔ لیکن اب 647 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ کل ہلاکتیں 13 ہو گئی ہیں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے قائدِ حزبِ اختلاف اور دو وزرا سمیت 40 سے زائد ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف بھی کرونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
پاکستانی کشمیر کے وزیرِ اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے خبردار کیا ہے کہ مظفر آباد کے قبرستان میں جگہ نہیں ہے۔ اس لیے لوگ احتیاط کریں تاکہ کرونا کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔
پاکستانی کشمیر کے وزیر برائے ہنگامی صورتِ حال احمد رضا قادری بھی کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کشمیر میں کرونا کے مریضوں کو آئسولیشن اور قرنطینہ کی بہتر سہولتیں مہیا کی جا رہی ہیں۔
احمد رضا قادری نے کہا کہ کیسز کی میں اضافے کی صورتِ حال تشویش ناک ہے۔ انتظامات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کشمیر کے تمام اضلاع میں کل 58 قرنطینہ مراکز قائم ہیں جب کہ 17 اسپتالوں میں آئسولیشن وارڈز بنائے گئے ہیں جہاں 380 مریض زیرِ علاج ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستانی کشمیر میں کوئی بھی مریض وینٹی لیٹر پر نہیں ہے۔
ادھر پاکستانی کشمیر میں ایک سینئر ڈاکٹر اعجاز احمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اسپتالوں میں آنے والوں کے کرونا ٹیسٹ نہ کرنے اور کرونا کے مریضوں کی کانٹیکٹ ہسٹری ٹریس نہ کرنے کی وجہ سے کشمیر میں وائرس کا پھیلاؤ بڑھتا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے کی استعداد ہی نہیں ہے نہ ہی اب تک ٹیسٹوں کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے۔ چار ماہ میں صرف 11 ہزار ٹیسٹ ہوئے ہیں جو بہت کم ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی مرکزی یونیورسٹی کے شعبہ ہیلتھ سائنسز کے سربراہ ڈاکٹر بشیر کنٹھ کہتے ہیں کہ پاکستانی کشمیر میں کرونا کیسز کی تعداد فی الحال کم ہے اور اس وبا سے کئی لوگ صحت یابی بھی ہوئے ہیں۔ یہ قدرت کا خصوصی انعام ہے ورنہ ہمارے ہاں اسپتالوں کی صورتِ حال پاکستان کی نسبت کافی خراب ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستانی کشمیر میں صرف 69 وینٹی لیٹرز ہیں۔ اگر مریضوں کی تعداد بڑھی تو یہ کم پڑ سکتے ہیں۔
پاکستانی کشمیر کے عوام یہاں کے نظامِ صحت کو کرونا وائرس کے سامنے بے بس اور ناکافی سمجھتے ہیں۔ سابق ہیڈ ماسٹر خواجہ مسعود قادر کہتے ہیں کہ ہمارا ہیلتھ سسٹم کرونا کی وبا کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔