اسپین: برطانوی شہریوں پر قرنطینہ کی پابندیاں عائد کرنے پر غور
اسپین کی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے سے ملکی سرحدیں کھول دی جائیں گی لیکن برطانیہ سے آنے والوں پر قرنطینہ میں رہنے کے پابندی لگانے پر غور ہو رہا ہے۔
برطانیہ نے بھی اسپین سے آنے والوں پر قرنطینہ میں رہنے کی پابندی عائد کی ہوئی ہے جس کے جواب میں اسپین بھی یہی پالیسی اپنانے کا سوچ رہا ہے۔
خبر رساں ادار 'رائٹرز' کے مطابق اسپین کی وزیرِ خارجہ ارانچا گونزالیز کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ برطانیہ جلد اسپین کے شہریوں پر عائد یہ پابندیاں اٹھائے گا تاکہ اسپین کو بھی پابندیاں لگانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
یوکرین کے صدر کی اہلیہ بھی کرونا وائرس میں مبتلا
یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی کی اہلیہ اولینا زیلنسکا بھی کرونا وائرس کا شکار ہو گئی ہیں اور ایک مقامی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
یوکرین کے صدارتی دفتر سے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ صدر ولادی میر زیلنسکی کا بھی کرونا وائرس ٹیسٹ کیا گیا جو منفی آیا ہے جب کہ ان کے دو بچوں کے ٹیسٹ بھی منفی آئے ہیں۔
البتہ یوکرینی صدر نے اپنی تمام مصروفیات، میٹنگز اور دورے منسوخ کرتے ہوئے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔
خیال رہے کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے یوکرین میں مارچ میں لاک ڈاؤن کیا گیا تھا اور گزشتہ ماہ اس لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تھی۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد یوکرین میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یوکرین میں اب تک 32 ہزار 400 سے زائد کرونا کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ کل 912 اموات ہوئی ہیں۔
امریکہ میں ہائیڈروآکسی کلوروکوئن کے استعمال پر پابندی
امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے کرونا وائرس کے علاج کے لیے دو دواؤں کی ہنگامی منظوری کے فیصلے کو واپس لے لیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ان دواؤں کو کرونا وائرس کے خلاف موثر قرار دیا تھا۔
ملیریا کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی ہائیڈروآکسی کلوروکوئن اور اس جیسی ایک اور دوا کلوروکوئن کے بارے میں اب ایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ ان کے کرونا وائرس کے علاج میں موثر ہونے کا امکان نہیں۔
بعض محدود پیمانے اور مشکوک نتائج والے تجربات کے بعد کہا گیا تھا کہ یہ دوائیں کرونا وائرس کے علاج میں کام آ سکتی ہیں۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ بار بار ان دواؤں کا ذکر کرتے رہے تھے۔ حد یہ کہ جب ان کا ایسے دو افراد سے رابطہ ہوا جنھیں کرونا وائرس لاحق تھا تو اس کے بعد انھوں نے خود بھی ہائیڈروآکسی کلوروکوئن استعمال کی تھی۔
ایف ڈی اے نے کہا ہے کہ کچھ ڈیٹا دیکھنے کے بعد واضح ہوا ہے کہ یہ دوائیں، خاص طور پر ہائیڈروآکسی کلوروکوئن نقصان پہنچاتی ہے۔ اس سال کے شروع میں ایف ڈی اے نے ایک انتباہ جاری کیا تھا کہ یہ دوائیں دھڑکن کو متاثر کرنے کا باعث ہو سکتی ہیں۔
امریکہ میں 50 ہزار کاروبار دوبارہ نہیں کھلیں گے
امریکہ میں کرونا وائرس کا بحران شروع ہونے کے بعد سے ایک لاکھ 43 ہزار سے زیادہ کاروبار بند ہو چکے ہیں۔
ان میں سے 35 فیصد یا لگ بھگ 50 ہزار کاروباروں کے دوبارہ کھلنے کا امکان نہیں ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس بحران نے ملک بھر میں چھوٹے کاروباروں کو کس بری طرح متاثر کیا ہے۔
یہ ڈیٹا امریکی کمپنی یلپ نے جاری کیا ہے جو کاروباروں کے بارے میں عوامی آرا کو اپنی ویب سائٹ اور فون ایپ پر شائع کرتی ہے۔ اس نے ان کاروباروں کو شمار کیا ہے جن کے مالکان سے یکم مارچ سے 9 جون کے دوران بتایا کہ وہ کام بند کر چکے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے منفی اثر کے باعث بند کاروباروں کی تعداد محض ایک تخمینہ ہے اور یہ ممکن ہے کہ حقیقی تعداد زیادہ ہو۔ یہ ممکن ہے کہ بہت سے کاروبار یلپ پر نہ ہوں یا ان کے مالکان نے اپنی صورت حال کو اپ ڈیٹ نہ کیا ہو۔
کرونا وائرس بحران کی وجہ سے ریٹیلرز اور ریسٹورنٹس نے سماجی فاصلے کو ممکن بنانے کے اقدامات کیے ہیں اور کوشش کی ہے کہ رابطے کو کم از کم رکھ کر کام کیا جائے لیکن پھر بھی یہ دونوں شعبے سب سے زیادہ متاثر کاروباروں میں شامل ہیں۔
یکم مارچ کے بعد بند کیے گئے ریسٹورنٹس میں سے نصف کے مالکان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کاروبار مستقلاً بند کر دیا ہے جب کہ ایک چوتھائی سے زیادہ ریٹیلرز کا کاروبار دوبارہ کھولنے کا ارادہ نہیں ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یلپ کے ڈیٹا سائنس کے نائب صدر جسٹن نارمن نے کہا کہ اگرچہ مقامی معیشتیں کھلنا شروع ہو گئی ہیں لیکن جو کاروبار بند ہونے پر مجبور ہوئے، ان کی مکمل واپسی میں طویل عرصہ لگے گا۔
کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں معیشت کا زوال جاری ہے اور دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ سب سے زیادہ متاثر دکھائی دیتی ہے۔ محکمہ محنت کے اعداد و شمار کے مطابق 3 ماہ میں 4 کروڑ 40 لاکھ امریکی اپنے ذریعہ آمدن سے ہاتھ دھو چکے ہیں اور بیروزگاری کی شرح 29 فیصد کو پہنچ چکی ہے۔