- By ضیاء الرحمن
پنجاب میں عوامی مقامات پر فیس ماسک پہننا لازمی قرار
پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حکومت نے عوامی مقامات پر فیس ماسک پہننا یا منہ ڈھانپنا لازمی قرار دیا ہے۔
پابندی قانون برائے امتناع وبائی امراض پنجاب 2020 کے سیکشن 4 اور 5 کے تحت اس پابندی کو لازم قرار دیا گیا ہے۔
سرکاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب بھر میں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ جس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے شہریوں کے لیے عوامی مقامات پر منہ ڈھانپنا لازم ہو گا۔
مراسلے کے مطابق دکاندار منہ ڈھانپے بغیر آئے ہوئے گاہکوں کو کسی قسم کی سروس فراہم نہ کریں گے۔
محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پابندی کرونا وائرس کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر لگائی گئی ہے۔ جس پر انتظامیہ اور پولیس سختی سے عمل درآمد کروائیں گے۔
سیکرٹری ہیلتھ محمد عثمان یونس کے مطابق منہ ڈھانپنے سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
کرونا وائرس بحران میں امریکی سیاست
امریکہ میں ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے مناسب وقت پر اقدامات نہ کرنے پر صدر ٹرمپ پر تنقید کی ہے۔ امریکہ میں معاشی بحران سے دو کروڑ افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔ رواں برس انتخابات میں ٹرمپ معاشی بحالی جب کہ جو بائیڈن لوگوں کی ملازمتوں پر بحفاظت واپسی پر زور دیں گے۔
پاکستان میں اموات ساڑھے تین ہزار ہو گئیں، ایک لاکھ 76ہزار مصدقہ کیسز
پاکستان میں کرونا وائرس سے مزید 119 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں اموات کی مجموعی تعداد 3501 ہو گئی ہے۔
پاکستان میں کرونا کے متاثرین کے اعداد و شمار جاری کرنے والی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 29ہزار کے قریب مزید ٹیسٹ کیے ہیں جس میں پانچ ہزار کے قریب نئے متاثرہ افراد کی نشان دہی ہوئی ہے۔
پاکستان میں اب تک 10 لاکھ 71 ہزار افراد کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جب کہ مجموعی طور پر مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 77 ہزار کے قریب ہے۔
سرکاری طور پر جاری کیے جانے والے اعداد وشمار میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں وبا سے متاثرہ 68ہزار افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ ملک میں وبا سے متاثرہ افراد کے صحت یاب ہونے کی شروح 38 فی صد بتائی جا رہی ہے جب کہ اس سے ہلاکتوں کی شرح 2 فی صد بتائی جا رہی ہے۔
پاکستان میں سب سے زیادہ متاثرہ افراد سندھ میں 67 ہزار ہیں تاہم اموات پنجاب میں زیادہ 1400 ہوئی ہیں۔
پاکستان میں کرونا وائرس سے پہلی بار ایک دن میں ڈیڑھ سو اموات
پاکستان میں جمعہ کو پہلی بار کرونا وائرس سے ایک دن میں ڈیڑھ سو سے زیادہ اموات ہوئی ہیں جبکہ پنجاب، سندھ اور گلگت بلتستان میں بھی 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ ہائے صحت کے مطابق دن بھر میں 6266 نئے کیسز سامنے آئے، جبکہ 152 مریض چل بسے۔ ان میں اسلام آباد کے اعدادوشمار شامل نہیں ہیں۔
ملک بھر میں کیسز کی مجموعی تعداد 171318 اور اموات کی تعداد 3381 ہوگئی ہے۔ کیسز کے لحاظ سے پاکستان فرانس اور میکسیکو سے بھی آگے نکل گیا ہے اور بدترین متاثر ملکوں میں اب 13ویں نمبر پر ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2538 مریضوں کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا، جبکہ 82 مریض دم توڑ گئے۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق صوبے میں ایک دن میں سب سے زیادہ 49 اموات ہوئیں اور 2894 کیسز سامنے آئے۔
خیبرپختونخوا میں 16 مریض چل بسے، جبکہ 608 افراد کے وائرس میں مبتلا ہونے کا علم ہوا۔ بلوچستان میں ایک شخص کا انتقال ہوا اور 164 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 34 اور گلگت بلتستان میں 28 نئے مریضوں کا پتا چلا۔ کشمیر میں ایک اور گلگت بلتستان میں پہلی بار ایک دن میں 3 ہلاکتیں ہوئیں۔
پنجاب میں اموات کی کل تعداد 1347، سندھ میں 1013، خیبرپختونخوا میں 789، بلوچستان میں 100، اسلام آباد میں 95 اور گلگت بلتستان میں 21 ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 16 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
پاکستان میں 8 جون کو پہلی بار ایک دن میں سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تب سے اب تک 12 دن میں ہلاکتوں کی تعداد 1308 ہوگئی ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں 63504 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ سندھ کے 32725 اور پنجاب کے 17964 افراد شامل ہیں۔