چین میں کرونا وائرس کے 18 نئے کیسز رپورٹ
چین میں کرونا وائرس کے 18 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے نو کا تعلق دارالحکومت بیجنگ سے ہے۔
چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے پیر کی صبح جاری ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ملک میں مزید 18 نئے کیسز کے بعد دارالحکومت بیجنگ میں مقامی حکام لوگوں کی نقل و حرکت ہر پابندی عائد کر رہے ہیں۔
ایک روز قبل چین میں 26 نئے اور تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے تھے جن میں سے 22 کیسز دارالحکومت چین میں رپورٹ ہوئے تھے۔
شہریوں کی آزادنہ نقل و حرکت کی روک تھام کے ساتھ ساتھ حکام مقامی طور پر انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے کے لیے دیگر سخت اقدامات پر بھی غور کر رہے ہیں۔
چین میں ایسے کیسز کو تصدیق شدہ کیسز میں شمار نہیں کیا جاتا جن میں مریض بیمار تو ہوتا ہے لیکن اس میں کرونا وائرس کی موجودگی کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ اب تک ایسے 7 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
پاکستان میں مزید 89 اموات، چار ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار مزید 89 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جب کہ ملک بھر میں چار ہزار 471 افراد میں وائرس کی تشخیص بھی ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کرونا وائرس کے شکار 3590 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ اس وبا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 81 ہزار 88 ہے جن میں سے 71 ہزار 458 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق اتوار کو ملک بھر میں 30 ہزار 520 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور اب تک ملک گیارہ لاکھ دو ہزار 162 افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں ویت نام کی تاریخی کامیابی
دس کروڑ کی آبادی والے ملک میں کرونا وائرس کی وجہ سے ایک شخص بھی ہلاک نہیں ہوا۔ جب کہ اس کی سرحدیں چین سے ملتی ہیں اور وسائل محدود ہیں۔ اب دو ماہ سے اس ملک میں کرونا کا ایک کیس بھی سامنے نہیں آیا
ویت نام میں آج بھی اگر آپ کسی کیفے میں داخل ہوں تو دروازے پر کھڑا سیکیورٹی گارڈ آپ کے ہاتھوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے سپرے کرے گا، اس طرح پبلک ٹرانسپورٹ میں ماسک پہننے کی درخواست کی جائے گی۔
یہ عمل بلا تخصیص ایک ایسے ملک میں جاری ہے جہاں کرونا وائرس سے ایک شخص بھی ہلاک نہیں ہوا ، جہاں دو مہینے سے کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔
یہ بات سبھی کے لیے حیرت انگیز ہے کہ دس کروڑ گنجان آبادی والے اس ملک میں کرونا کے ہاتھوں ایک شخص بھی نہیں ہلاک ہوا، ان تحیر کن اعداد و شمار سے یہ بحث ضرور شرع ہوئی کہ ایک پارٹی کی حکومت والے ملک میں سارا ڈیٹا سامنے نہیں آیا۔ چین اور ایران میں یک جماعتی آمریت قائم ہے اور ان ملکوں کے بارے میں شک کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اموات کی تعداد کو چھپایا، مگر نیوزی لینڈ اور جنوبی کوریا جیسے آزاد معاشروں میں، جس طرح کرونا پر قابو پایا گیا، اس پر تو کسی کو شبہ نہیں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہلاکتوں میں اضافہ، اموات 20 ہو گئیں
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 32 افراد کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ حکام نے مزید ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
کشمیر میں وائرس سے اب تک 20 افراد ہلاک ہو چکے ہین۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ مزید 12 مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔ جس کے بعد صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 348 ہو گئی ہے۔
محکمہ صحت عامہ کی جانب سےجاری کردہ رپورٹ کے مطابق کشمیر میں اب تک 845 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ کئی افراد کے صحت یاب ہونے کے بعد 477 مریض زیرِ علاج ہیں۔