کرونا وائرس کے متاثرین میں نوجوانوں کی تعداد بڑھنے لگی
امریکہ کی جنوبی ریاستوں کے حکام خبردار کررہے ہیں کہ کرونا وائرس میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد میں نوجوانوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اس سے پہلے صحت عامہ کے ماہرین بتارہے تھے کہ عالمگیر وبا سے متاثر ہونے والوں کی بڑی تعداد معمر افراد اور ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو پہلے سے دائمی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ لیکن، اب فلوریڈا، جنوبی کیرولائنا، جارجیا، ٹیکساس اور دوسری ریاستوں میں مختلف صورتحال درپیش ہے۔
ٹیکساس کے گورنر گریک ایبٹ نے گزشتہ ہفتے کہا کہ کئی کاؤنٹیز میں نئے مریضوں کی اکثریت 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ اس کی وجہ میموریل ڈے اور دوسری تقریبات میں شرکت ہوسکتی ہے۔
فلوریڈا میں گورنر رون ڈی سینٹس نے جمعے کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے نئے مریضوں کی اوسط عمر 37 سال تھی۔ ریاست میں ایک ہفتے کے دوران جتنے کیسز سامنے آئے، ان میں 62 فیصد افراد کی عمر 45 سال سے کم تھی۔
سال کے آخر تک ویکسین بننے کی امید ہے، ڈاکٹر فاؤچی
امریکہ میں وبائی امراض کے سب سے بڑے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں کرونا وائرس کی ویکسین بننے کا سوال اگر سے نہیں، کب سے شروع ہوتا ہے۔ وہ محتاط طور پر پرامید ہیں کہ سال کے آخر تک کوئی ویکسین بن جائے گی۔
ڈاکٹر فاؤچی نے یہ بات ایوان نمائندگان کی کمیٹی کے اجلاس میں ارکان سے کہی۔ اجلاس میں ان کے علاوہ بیماریوں کی روک تھام اور بچاؤ کے مراکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ، فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے سربراہ ڈاکٹر اسٹیفن ہان اور امریکی پبلک ہیلتھ سروس کے سربراہ ایڈمرل بریٹ گروئیر نے بھی شرکت کی۔
دنیا بھر میں کرونا وائرس کی سو سے زیادہ ویکسینز پر کام جاری ہے اور ایک درجن سے زیادہ کی انسانوں پر آزمائش کی جارہی ہے۔ ان تجربات کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ یہ ویکسینز مضر اثرات کی حامل نہ ہوں۔
اس سے پہلے ڈاکٹر فاؤچی 12 مئی کو سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے جس میں انھوں نے خبردار کیا تھا کہ کاروبار کھولنے میں جلدی کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اس کے بعد بیشتر ریاستوں میں جزوی طور پر کاروبار کھولا گیا اور نصف ریاستوں میں کیسز بڑھ رہے ہیں۔
پاکستان میں 3337 مریضوں کی حالت تشویش ناک
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار مزید 60 مریض دم توڑ گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ 3337 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی کل تعداد 3755 تک پہنچ گئی ہے جب کہ کیسز کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 84 ہزار 948 ہے جن میں سے 77 ہزار 754 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
روپے کی قدر میں مسلسل کمی، کرونا سے متاثر معیشت کے لیے نیا چیلنج؟
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے سے پہلے ہی مشکلات سے دوچار تھی لیکن اس وبا کے غیر معمولی سماجی اور اقتصادی اثرات کی وجہ سے پاکستان معیشت کو اس وقت شدید کساد بازاری کا سامنا ہے۔
اقتصادی اُمور کے ماہر اور پاکستان کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے حالیہ اقتصادی اعشاریے کسی طور حوصلہ افزا نہیں ہیں۔
حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ پاکستان کو قرضوں کی واپسی اور تجارتی خسارے میں کمی کے لیے 15 سے 16 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مسلسل کم ہو رہی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں گزشتہ چند روز سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مسلسل گر رہی ہے۔ فاریکس مارکیٹ میں ایک ڈالر 168 روپے تک پہنچ چکا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے اپریل میں ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک میں صنعتی شعبے کی پیداوار میں 40 فی صد کمی واقع ہوئی جبکہ ملک میں تیل کی کھپت میں 25 سے 30 فی صد کمی ہوئی ہے۔