کرونا وائرس سے متعلق آگاہی کے لیے مسٹر بین بھی میدان میں آگئے
دنیا کو اپنی منفرد اداکاری سے ہنسانے والے مسٹر بین اب کرونا وائرس سے متعلق آگاہی دیں گے۔
عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کرونا وائرس سے متعلق احتیاطی تدابیر دنیا بھر میں عام کرنے کی غرض سے بچوں کے کارٹون مسٹر بین کی مدد لی ہے۔
ادارے نے اپنے آفیشنل یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں کرونا وائرس سے بچنے کے لیے کارٹون مسٹر بین کا سہارا لیا گیا ہے۔
ویڈیو میں مسٹر بین احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور صحت کے اصولوں پر عمل درآمد کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ اب تک ہزاروں افراد اس ویڈیو کو دیکھ چکے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں کرونا سے متاثرہ 60 فی صد افراد ٹائیفائیڈ کا بھی شکار
پاکستان ميں کرونا وائرس کی وبا پھيلنے کے بعد سرکاری اسپتالوں ميں شعبہ برائے بيرونی مریض یعنی او پی ڈیز کی سہولت معطل ہے۔ جس کے باعث ديگر موذی امراض کے پھيلنے ميں تيزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرين کے مطابق خیبر پختونخوا میں تیزی سے پھیلنے والی بيماريوں ميں سے ايک 'ٹائيفائيڈ' ہے جب کہ کرونا وائرس سے متاثرہ افراد میں سے 60 فی صد مریض ٹائیفائیڈ کا بھی شکار ہیں۔
ماہرین نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ مون سون کے بعد سندھ میں بھی ٹائیفائیڈ کے کیسز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ٹائیفائیڈ کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔
کرونا ٹیسٹ کا تنازع، پاکستان کی کرکٹ ٹیم انگلینڈ روانہ
پاکستان کرکٹ ٹیم 20 کھلاڑیوں اور عملے کے 11 ارکان سمیت انگلینڈ کے دورے کے لیے اتوار کی صبح لاہور سے مانچسٹر روانہ ہو گئی ہے۔ پاکستانی ٹیم خصوصی طیارے کے ذریعے روانہ ہوئی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے جائیں گے۔
یار رہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان میچوں کی حتمی تاریخ اور مقامات کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔
قومی اسکواڈ 14 روز قرنطینہ میں گزارے گا تاہم انہیں پریکٹس اور ٹریننگ کی اجازت ہوگی۔
انگلینڈ روانہ نہ ہونے والے کھلاڑیوں میں محمد حفیظ بھی شامل ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کرائے گئے کرونا ٹیسٹ میں آل راؤنڈر محمد حفیظ کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا تاہم جب انہوں نے نجی لیب سے دوبارہ ٹیسٹ کرایا تو اس کی رپورٹ منفی آئی تھی۔ جس کے بعد انہوں نے ایک ٹوئٹ کیا اور پیغام دیا کہ ان کا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔ ٹوئٹ کے ساتھ ہی نیا تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔
اٹلی میں اموات میں کمی، جنوبی کوریا میں کیسز میں اضافہ
اٹلی میں یکم مارچ سے اب تک یومیہ اموات کی سب سے کم تعداد ریکارڈ کی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایک ہفتہ قبل تک اٹلی میں مکمل لاک ڈاؤن تھا جس کے سبب مرنے والے افراد کی تعداد کمی واقع ہوئی ہے۔
اُدھر جمہوریہ چیک میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
وزارت صحت کے مطابق جمہوریہ چیک میں 8 اپریل کے بعد سے اب تک یومیہ 260 نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ جمہوریہ چیک میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تقریبا تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ 17 کروڑ کی آبادی والے ملک میں اب تک 11 ہزار سے زائد کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جن سے میں ہفتے تک 347 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
جنوبی کوریا میں ایک مرتبہ پھر کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق 62 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد 12 ہزار715 ہوگئی ہے۔
میکسیکو کی وزارت صحت نے ہفتے کو 4410 نئے کیسز کی تصدیق کی ہے۔ میکسیکو میں اب تک کرونا وائرس سے متاثرہ 602 افراد کی موت ہو چکی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ متاثرہ افراد کی اصل تعداد تصدیق شدہ کیسز کے مقابلے میں زیادہ ہے۔