عالمی ادارہ صحت نے ہائیڈروآکسی کلوروکوئن کا ٹیسٹ ٹرائل بند کر دیا
عالمی ادارہ صحت نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ ملیریا کی دوائی ہائیڈروآکسی کلوروکوئن اور ایچ آئی وی کی دوا لوپیناویر/رٹوناویر کا اسپتالوں میں کرونا وائرس کے علاج کے لیے ٹرائل ٹیسٹ بند کیا جا رہا ہے، چونکہ ان کے استعمال سے اموات میں کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوئی۔
یہ ناکامی ایسے میں سامنے آئی ہے جب آج ہی کے دن عالمی سطح پر پہلی بار 200000 سے کرونا کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ ادارے نے بتایا ہے صرف امریکہ میں 512326 نئے کیسز سامنے آئے، جو کل تعداد کے ایک چوتھائی سے زیادہ ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے بیان کے مطابق، ان عبوری نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری دوائیوں کے مقابلے میں ہائیڈروآکسی کلوروکوئن اور لوپیناویر/رٹوناویر اسپتال میں داخل مریضوں کی اموات میں کمی نہیں لاتیں۔ تجربہ کرنے والے معالج فوری طور پر ان کا استعمال بند کر دیں گے۔
ادارے کی سرپرستی میں ان دوائوں کا مختلف ملکوں میں ٹیسٹ ٹرائل جاری تھا۔
ادارے نے کہا ہے کہ اس فیصلے کی سفارش تجربہ کرنے والی بین الاقوامی اسٹیرنگ کمیٹی نے کی ہے، جب کہ دیگر ادویات کا ٹیسٹ ٹرائل جاری ہے۔
کرونا وائرس کے علاج کے حوالے سے عالمی ادارے کی دوسری ٹیم گلاڈ کی اینٹی وائرل دوائی، ریمڈیسیور کو آزما رہی ہے۔ یورپی کمشن نے جمعے کے دن ریمڈیسیور کے استعمال کی مشروط اجازت دے دی ہے، جب یہ ثابت ہوا کہ اس کا استعمال کرنے والے مریض قدرے جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
ویکسین کے ٹیسٹ ٹرائل کو پانچ گروپوں میں بانٹا گیا تھا، تاکہ پتا چل سکے کہ کرونا وائرس کے علاج میں ان کی کوئی افادیت ہے۔ یہ ممکنہ ویکسین ریمڈیسیور، ہائیڈروآکسی کلوروکوئن، لوپناویر/رٹوناویر، جب کہ لوپناویر/ریٹاویر کا انٹرفرون کے ساتھ استعمال۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل، ٹیڈروس ادنام گیبریس نے جمعے کے روز اخباری نمائندوں کو بتایا کہ 35 ملکوں میں تقریباً 5500 مریضوں پر ممکنہ ویکسینز کا کلینکل ٹرائل کیا گیا، اور آئندہ دو ہفتوں کے دوران عبوری نتائج برآمد ہونے کی توقع ہے۔
مجموعی طور پر 18 ممکنہ ویکسینز ترتیب دی گئی ہیں جن کا انسانوں پر تجربہ کیا جا رہا ہے، جب کہ اب تک کرونا کے علاج کی تقریباً 150 ادویات تیاری کے مختلف مراحل میں ہیں۔
چین کی تیارکردہ کرونا ویکسین کے کلینکل ٹرائل برازیل میں ہوں گے
برازیل نے کہا ہے کہ اس نے چین کی سنوویک کمپنی کی تیار کردہ ویکسین کے انسانوں پر تجربات کی منظوری دے دی ہے۔
کرونا وائرس کی عالمی وبا کے پھیلاؤ میں امریکہ کے بعد برازیل کا نمبر ہے جہاں متاثرین کی مجموعی تعداد 15 لاکھ سے بڑھ چکی ہے اور مجموعی ہلاکتیں 63 ہزار سے زیادہ ہیں۔
ویکسین کی انسانوں پر ٹیسٹنگ کے بارے میں پہلا اعلان 11 جون کو کیا گیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ ریاست سن پاولو کے فنڈز سے چلنے والے بوٹانٹن انسٹی ٹیوٹ کا کرونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے والی ایک چینی کمپنی سنوویک کے ساتھ معاہدہ ہو گیا ہے جس کے تحت ویکسین کے کلینکل تجربات کیے جائیں گے۔
29 جون کو سن پاولو کے گورنر جو ڈوریا نے کہا تھا کہ کرونا ویکسین کے ٹیسٹ کے لیے 9 ہزار رضاکار پہلے ہی اپنے ناموں کا اندراج کروا چکے ہیں۔
ڈوریا کا کہنا ہے کہ یہ ٹیسٹ برازیل کی 6 ریاستوں کے 12 مراکز میں کیے جائیں گے۔
جمعے کے روز برازیل کے صدر جیر بولسونارو نے ایک قانون کی منظوری دی جس میں لوگوں کے لیے ضروری قرار دیا ہے کہ وہ سڑکوں اور گلیوں میں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتے وقت ماسک پہنیں۔
اس قانون کے تحت عوامی مقامات، مثلاً عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز کے اندر بھی ماسک پہننا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
برازیل کے صدر عالمی وبا کے آغاز سے ہی صحت کے ماہرین کی نکتہ چینی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر نے وائرس کی سنگینی کو اہمیت نہیں دی جس کی وجہ سے ملک میں یہ وبا بڑے پیمانے پر پھیلی۔
بھارت میں ایک ہی روز ریکارڈ 22 ہزار کیس رپورٹ
بھارت میں ہفتے کو ایک ہی دن میں سب سے زیادہ 22 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ ایک ہی دن میں 442 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
ریاست مہاراشٹر کے سب سے گنجان آباد تجارتی شہر ممبئی میں ہفتے کو سب سے زیادہ 6 ہزار 3 سو 64 نئے کیسز ریکارڈ ہوئے جب کہ 198 افراد ہلاک ہوئے۔
وزارتِ صحت کے مطابق نئے کیسز سامنے آنے کے بعد بھارت کرونا سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں امریکہ اور برازیل کے بعد تیسرے نمبر پر آ گیا ہے جہاں مریضوں کی مجموعی تعداد ہفتے تک چھ لاکھ چالیس ہزار سے بڑھ گئی ہے۔
ممبئی میں اگلے 48 گھنٹوں تک موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق بارشوں سے شہر کے بیشتر علاقے زیرِ آب آجاتے ہیں جس سے کرونا وائرس کی روک تھام کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب جنوبی ریاست تامل ناڈو جو کرونا سے بری طرح متاثر ہے یہاں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔
کرونا کی اطلاع چین نے نہیں بلکہ وہاں موجود دفتر نے دی تھی: عالمی ادارہ صحت
عالمی ادارہ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ ادارے کو وائرس سے متعلق اطلاع سب سے پہلے چین نے نہیں بلکہ وہاں قائم ڈبلیو ایچ او کے دفتر نے دی تھی۔
اس سے قبل ادارے کا یہ موقف رہا ہے کہ اسے وائرس سے متعلق اطلاع چین سے موصول ہوئی تھی لیکن ادارے نے یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ اطلاع کس نے دی تھی۔
ادارے کی جانب سے وائرس سے متعلق گزشتہ ہفتے ایک ٹائم لائن جاری کی گئی ہے۔
ٹائم لائن میں بتایا گیا ہے کہ 31 دسمبر 2019 کو ادارے کے چین میں موجود دفتر نے چین کے شہر ووہان کے میونسپل ہیلتھ کمیشن کی ویب سائٹ میں 'وائرل نمونیہ' سے متعلق معلومات سے علاقائی دفتر کو آگاہ کیا۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ادارے نے یکم اور دو جنوری کو چین سے باضابطہ طور پر اس 'وائرل نمونیہ' سے متعلق معلومات طلب کیں جو تین جنوری کو فراہم کی گئیں۔
چین پر امریکہ سمیت کئی ملک یہ تنقید کرتے رہے ہیں کہ اس نے وائرس سے متعلق دنیا کو آگاہ کرنے میں جان بوجھ کر تاخیر کی جس سے وائرس دنیا بھر میں پھیلا۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وائرس سے متعلق معلومات کی عدم فراہمی اور ناکافی اقدامات کا جواز پیش کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کی امداد روک لی تھی۔