ایشوریہ رائے اور ان کی بیٹی بھی کرونا کا شکار
بالی ووڈ کے بگ بی یعنی امیتابھ بچن اور ان کے بیٹے ابھیشیک بچن کے بعد ان کی بہو ایشوریہ رائے اور پوتی ارادھیہ بھی کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔
امیتابھ بچن اور ابھیشیک بچن کا ٹیسٹ ایک روز قبل مثبت آیا تھا جس کے بعد انہیں ممبئی کے ناناوتی اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔
ستتر سالہ امیتابھ بچن نے ٹیسٹ مثبت آنے پر ایک ٹوئٹ بھی کی تھی جس میں انہوں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ ناناوتی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
امیتابھ کے بعد ابھیشیک کا ٹیسٹ بھی مثبت آیا اور یوں انہیں بھی اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔
ابھیشیک نے بھی اپنا ٹیسٹ مثبت آنے پر سوشل میڈیا پر پرستاروں کو کرونا وائرس میں مبتلا ہونے سے متعلق بتایا تھا۔
ایشوریہ رائے اور ان کی بیٹی کے ساتھ ساتھ دیگر اہل خانہ کے بھی کرونا وائرس ٹیسٹ کیے گئے تھے۔ پہلی بار میں ایشوریہ اور ارادھیہ کا ٹیسٹ منفی جب کہ دوسری بار مثبت آیا ہے۔
ناناوتی اسپتال کے ترجمان ڈاکٹر انصاری نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ امیتابھ وینٹلی لیٹر پر نہیں ہیں اور ان حالت بہتر ہو رہی ہے۔
صدر ٹرمپ کی پہلی بار ماسک پہن کر عوامی تقریب میں شرکت
صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اب تک کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آنے کے باوجود ماسک پہننے سے گریز کرتے آئے تھے، اب انہوں نے بھی ماسک پہننا شروع کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ہفتے کو ایک فوجی تقریب میں شرکت کی۔ اس دوران انہوں نے ایک اسپتال میں زیرِ علاج زخمی فوجیوں اور فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر ورکرز سے ملاقات کی۔ اس دوران انہوں نے پہلی مرتبہ کسی عوامی مقام پر فیس ماسک پہنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس سے قبل ماسک پہننے یا دوسرے امریکیوں کو ماسک پہننے کی ترغیب دینے سے انکار کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ماسک پہننا یا نہ پہننا ہر انسان کی ذانی پسند، نہ پسند پر منحصر ہے۔
پہلی بار ماسک پہننے سے متعلق وضاحت پیش ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی ماسک پہننے کے خلاف نہیں تھے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے لیے مناسب وقت اور جگہ ہوتی ہے۔
ان کے بقول اسپتال بھی ایسی جگہ ہے جہاں ماسک پہننا ضروری ہے۔ یہاں آپ کو بہت سے لوگوں سے رابطہ کرنا پڑتا ہے۔ یہاں صحت یاب لوگوں کے ساتھ ساتھ کرونا وائرس سے متاثرہ افراد بھی متاثر ہوتے ہیں لہذا یہاں ماسک پہننا لازمی ہے۔
صحت عامہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے ماسک کے استعمال پر زور دیا ہے۔
امریکہ میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 32 لاکھ سے زائد جب کہ ایک لاکھ 34 ہزار اموات ہو چکی ہیں۔
اسرائیل: حکومت کی معاشی حکمت عملی کے خلاف احتجاج
اسرائیل میں حکومت کی کرونا وائرس کا پھیلاو روکنے کی حکمت عملی کے خلاف ہزاروں افراد احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔
تل ابیب میں ہفتے کو ہزاروں افراد نے حکومتی حکمت عملی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ایک بڑا مظاہرہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت نے بحران کے دوران ملکی معیشت پر توجہ نہیں دی جو سراسر اس کی نااہلی ہے۔
مظاہرین کی جانب سے اسے ہٹ دھرمی قراردیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا نے مظاہرین کی تعداد ہزاروں میں بتائی ہے تاہم اس حوالے سے سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔
کرونا وائرس کے باعث اسرائیل میں مارچ میں لاک ڈاؤن کیا گیا تھا۔ تب سے ملک میں بے روزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے جو اب بڑھتے بڑھتے 21 فی صد ہوگئی ہے۔
حکومت نے عوام کو امدادی پیکیج دینے کا اعلان کیا تھا تاہم یہ منصوبہ بھی سست روی کا شکار ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس صورتِ حال میں عوام مایوسی کا شکار ہے۔ انہیں ملکی معیشت کے دیوالیہ ہونے کے خدشات لاحق ہیں۔
مظاہرین میں تاجروں کی بھی بڑی تعداد شامل تھی جن کا کہنا تھا کہ خراب معشیت کے سبب ان کا کاروبار مندی کا شکار ہے۔ یہاں تک کہ ان کے پاس ملازمین کی تنخواہیں دینے کے لیے بھی رقم موجود نہیں۔
ادھر کرونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے وبا پر قابو پانے کے لیے مزید پابندیاں لگا دی ہیں جس کے سبب متعدد کاروبار بند ہو گئے ہیں۔
جرمنی: کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ، تعداد دو لاکھ تک پہنچ گئی
یورپ کے ملک جرمنی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے مزید 248 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 99 ہزار 709 ہوگئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں 9 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ ایک لاکھ 84 ہزار کے صحت یاب ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔