کیلی فورنیا میں کاروبار دوبارہ بند کرنے کا فیصلہ
کیلی فورنیا میں کرونا وائرس کے کیسز میں تیزی کے بعد گورنر گیون نیوسم نے ریاست دوبارہ کھولنے کے منصوبے ملتوی کر دیے ہیں اور اعلان کیا ہے کہ وہ ریسٹورنٹس، شراب خانوں، کیسینوز، تھیٹرز اور چڑیا گھروں کو بند کرنے کے احکامات دے رہے ہیں۔
گورنر نے یہ بھی کہا کہ وہ وبا سے زیادہ متاثرہ کم از کم 30 کاؤنٹیز میں فٹنس مراکز، عبادت گاہوں، کم اہم دفاتر، بال کاٹنے کی دکانوں اور شاپنگ مالز کو بھی بند کر دیا جائے گا۔ ان کاؤنٹیز میں ریاست کی 80 فیصد آبادی رہتی ہے۔
کیلی فورنیا میں یومیہ اوسطاً 8 ہزار کیسز کی تصدیق ہو رہی ہے جو ایک ماہ پہلے کے مقابلے میں دگنا سے بھی زیادہ ہے۔ اب تک ریاست میں 3 لاکھ 30 ہزار مریض سامنے آ چکے ہیں جو نیویارک کے بعد ملک میں دوسری بڑی تعداد ہے جب کہ 7 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔
شٹ ڈاؤن نہ کرنے سے کیسز بڑھے، فاؤچی، متعدد ملکوں کی سمت غلط ہے، ٹیڈروس
وبائی امراض کے بڑے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز دوبارہ تیزی سے بڑھنے کی وجہ مکمل شٹ ڈاؤن نہ کرنا ہے۔
ادھر عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہینوم کا کہنا ہے کہ وبا کے زمانے میں بہت سے ملک غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ انھوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا لیکن بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان کا اشارہ امریکی انتظامیہ کی طرف ہے۔
ڈاکٹر فاؤچی نے پیر کو اسٹین فورڈ اسکول آف میڈیسن کے ویب نار میں خطاب کیا۔ انھوں نے ایچ آئی ویڈز، ایبولا، اینتھرکس اور زیکا وائرس کی وبائیں دیکھی ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس واضح طور پر ان کے کریئر کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
'پاکستان، افغانستان سمیت 10 ممالک میں ایک کروڑ بچے دوبارہ اسکول نہیں جا سکیں گے'
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی رپورٹ کے حوالے سے برطانیہ کی فلاحی تنظیم 'سیو دی چلڈرن' نے خبردار کیا ہے کہ عالمی وبا کے باعث لگ بھگ 97 لاکھ بچے دوبارہ اسکول نہیں جا سکیں گے۔
سیو دی چلڈرن کی پیر کو جاری کردہ رپورٹ 'سیو آر ایجوکیشن' کے مطابق 12 ممالک نائجر، مالی، چاڈ، لائبیریا، گھانا، موریتانیہ، یمن، نائیجیریا، سینیگال اور آئیوری کوسٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان اور افغانستان ان ممالک میں شامل ہیں جہاں سب سے زیادہ بچوں کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق 'سیو آر ایجوکیشن' نامی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے سبب دنیا بھر میں 90 فی صد یعنی ایک ارب 60 کروڑ طلبہ کا اسکولوں اور جامعات میں تعلیمی سلسلہ معطل ہو گیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ انسانی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ عالمی سطح پر ایک پوری نسل کی تعلیم وائرس کے سبب متاثر ہوئی ہے۔
- By شمیم شاہد
پاکستان کے دینی مدارس کے سالانہ امتحانات احتیاطی تدابیر کے تحت جاری
مختلف اسلامی مکاتب فکر کے دینی مدارس کے تدریسی اور انتظامی ادارے وفاق المدارس کے زیرِ انتظام سالانہ امتحانات کا سلسلہ پاکستان بھر میں جاری ہے۔
یہ امتحانات کرونا وائرس کے پیشِ نظر حکومت کے وضع کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق ہو رہے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں وفاق المدارس کے سیکریٹری مفتی سراج الحسن کے مطابق ملکی سطح پر وفاق المدارس میں 20 ہزار 683 مدارس رجسٹرڈ ہیں۔ جن میں 27 لاکھ 46 ہزار 601 طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔
ان کے بقول خیبر پختونخوا میں مدارس کی تعداد 6 ہزار 401 ہے جن میں 9 لاکھ 36 ہزار 942 طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
حالیہ سالانہ امتحانات میں ملک بھر میں ایک لاکھ 19 ہزار 318 طلبہ جب کہ ایک لاکھ 96 ہزار 671 طالبات شریک ہو رہے ہیں۔
اساتذہ کے مطابق دینی مدارس کے سالانہ امتحانات پورے ملک میں یکساں نصاب کے تحت ہوتا ہے اور ایک ہی وقت میں پرچہ شروع اور ختم ہوتا ہے۔ ایک ہفتے پر مشتمل امتحانات میں روزانہ ایک ہی پرچہ لیا جاتا ہے جب کہ ایک ماہ کے اندر نتائج کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ ملک کے دیگر تعلیمی اداروں کے طرح مدارس میں درس و تدریس کا سلسلہ کرونا وائرس کے باعث مارچ کے وسط سے معطل ہے۔