بھارت میں کرونا کیسز نو لاکھ سے متجاوز
بھارت میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور اب مجموعی کیسز کی تعداد نو لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 28 ہزار 498 افراد میں کرونا کی تشخیص ہوئی جب کہ 553 افراد کی موت ہوئی ہے۔ بھارت میں کرونا وائرس سے اموات کی کل تعداد 23 ہزار 727 تک پہنچ گئی ہے۔
بھارت میں صحت یاب مریضوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور یہ کرونا سے صحت یابی کی شرح 63.02 فی صد ہو گئی ہے۔ اس وقت بھارت میں کرونا کے زیرِ علاج مریضوں کی کل تعداد تین لاکھ 11 ہزار ہے جب کہ پانچ لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد شفایاب ہو چکے ہیں۔
دارالحکومت نئی دہلی میں حالات اب کافی بہتر ہو رہے ہیں۔ دہلی میں یومیہ 20 ہزار سے 25 ہزار نمونوں کی جانچ ہو رہی ہے۔ دہلی کے وزیرِ اعلیٰ اروند کیجری وال نے منگل کو 'لوک نائک اسپتال' میں دوسرے پلازمہ بینک کا بھی افتتاح کیا ہے۔
امیتابھ بچن کا آئسولیشن وارڈ سے مداحوں کے لیے محبت بھرا پیغام
کرونا وائرس کے شکار ہونے والے بالی وڈ نگری کے لیجنڈ اداکار امیتابھ بچن نے اپنے مداحوں کے نام اسپتال کے کرونا وارڈ سے پیغام بھیجا ہے۔
انہوں نے صحت یابی کی دعائیں اور نیک خواہشات کا اظہار کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔
امیتابھ بچن نے اپنی ایک انسٹاگرام پوسٹ میں شاعرانہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ دعائیں اور نیک تمنائیں مجھ تک ایسے پہنچ رہی ہیں جس طرح طوفان کے دوران نہ رکنے والی بارش ہوتی ہے۔ محبت کے اس بندھن نے تمام بند توڑ دیے ہیں اور میں اس پیار میں بھیگ گیا ہوں۔
پاکستان میں کرونا کے مزید 50 مریض چل بسے
جانوروں کی بیماریوں کی انسانوں کو منتقلی کا سبب جنگلی حیات کی اسمگلنگ
کوویڈ 19 کے پھیلاؤ نے دنیا کو ایک بار پھر یاد دلایا ہے کہ جنگلی حیات کی سمگلنک نہ صرف ماحولیات کے لیے ایک خطرہ ہے بلکہ جانوروں کی غیر قانونی منتقلی انسانی صحت کے لیے بھی مضر ثابت ہو رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ وائلڈ لائف کی 2020 کی رپورٹ برائے جرائم کے مطابق جنگلی جانوروں کو ذبح کر کے ان کے گوشت کی غیر قانونی خرید و فروخت سے جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماریوں کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماریاں دنیا میں پھیلنے والی متعدی بیماریوں کا 75 فی صد ہیں اور ان میں کرونا وائرس بھی شامل ہے جس نے عالمی وبا کی صورت اختیار کر کے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے نشہ آور ادویات اور جرائم سے متعلق ادارے کے سربراہ غدا ولی کہتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر جرائم میں ملوث گروہ جنگلی حیات کی سمگلنگ سے پیسے بنا رہے ہیں لیکن ان کے جرائم کی قیمت غریب عوام ادا کر رہے ہیں۔