امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کرونا کیسز میں نیویارک سے آگے
امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں کرونا کیسز کی تعداد نیویارک کے مقابلے میں زیادہ ہو گئی ہے۔
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے اعداد و شمار جمع کرنے والی امریکی یونیورسٹی جان ہاپکنز کے مطابق ریاست کیلی فورنیا میں کرونا کیسز کی تعداد چار لاکھ نو ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے جو امریکہ میں کسی بھی ریاست میں مقابلے میں سب سے زیادہ کیسز ہیں۔
ریاست نیویارک کو کرونا کیسز سے سب سے زیادہ متاثر قرار دیا جاتا تھا۔ تاہم اعداد و شمار کے مطابق کیلی فورنیا میں نیویارک کے مقابلے میں 1200 زیادہ کیسز ہیں۔
ہلاکتوں کے اعتبار سے نیویارک سب سے آگے ہےجہاں اب تک 32 ہزار 520 مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ میں اب تک ایک لاکھ 43 ہزار 190 مریض ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ ملک بھر میں 39 لاکھ 70 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
پاکستان میں مزید 32 اموات، 1763 کیسز
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے مزید 32 مریض چل بسے جب کہ ملک بھر میں 1763 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا سے ہلاکتوں کی کل تعداد 5709 ہو گئی ہے۔ اس وبا کے کیسز کی کل تعداد دو لاکھ 69 ہزار 191 ہے جن میں سے دو لاکھ 13 ہزار 175 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
'امریکہ میں کرونا کے مریضوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے زیادہ ہے'
امریکہ میں بیماریوں کی روک تھام کے ادارے 'سی ڈی سی' کا کہنا ہے کہ ملک کے کچھ حصوں میں کرونا وائرس کے مریضوں کی اصل تعداد سرکاری طور پر رپورٹ ہونے والی تعداد سے دو سے 13 گنا تک زیادہ ہے۔
سی ڈی سی نے یہ انکشاف ان لوگوں کے خون کے نمونوں کی جانچ کے بعد کیا ہے جو ملک کے 10 حصوں میں معمول کے میڈیکل ٹیسٹس کے لیے اسپتال پہنچے تھے۔ ان علاقوں میں نیویارک شہر، جنوبی فلوریڈا، میزوری، یوٹا اور واشنگٹن ریاست شامل ہیں۔
میزوری میں کرونا وائرس کے مریضوں کی اصل تعداد رپورٹ کی جانے والی تعداد کے مقابلے میں 13 گنا زیادہ ہونے کا خدشہ ہے جب کہ یوٹا میں دو گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔
طبی جریدے 'انٹرنل میڈیسن' میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہت سے لوگوں نے صرف اس لیے کرونا وائرس کے ٹیسٹ نہیں کرائے کیوں کہ ان میں وائرس کی علامات یا تو نسبتاً کم تھیں یا بالکل نہیں تھیں۔ تاہم انہیں کرونا وائرس لاحق ہو چکا تھا اور وہ اس وائرس کو مزید لوگوں تک پھیلانے کا باعث بنے۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے بھی وائٹ ہاؤس میں اپنی معمول کی بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ملک بھر میں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور یہ صورت حال بہتر ہونے سے پہلے مزید خراب ہو گی۔
امریکہ میں کرونا وائرس کی ویکسین کی جانچ اپنے آخری مراحل میں ہے۔ امریکی دوا ساز کمپنی 'فائیزر' اور جرمن کمپنی 'بائیون ٹیک' کی طرف سے مشترکہ طور پر تیار کی جانے والی ویکسین تجرباتی طور پر برازیل میں کرونا کے مریضوں کو دی جا رہی ہے۔
دریں اثنا اقوامِ متحدہ کے ادارے 'یونیسیف' کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث تعلیمی ادارے بند رہنے کی وجہ سے اسکول میں داخلے کی عمر کو پہنچنے والے چار کروڑ بچے اپنی تعلیم کا سلسلہ شروع کرنے سے محروم رہے ہیں۔