بھارت میں وبا کا زور اور ناکافی طبی سہولتیں
بھارت میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 12 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ دو کروڑ آبادی والا دہلی شہر کئی دوسرے بڑے شہروں کی طرح مشکلات کا شکار ہے۔ ماہرین صحت کے لیے مختص بجٹ اور طبی سہولتوں کو ناکافی قرار دے رہے ہیں۔ تفصیلات اس رپورٹ میں
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ 87 فی صد افراد صحت یاب
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے 87 فی صد افراد صحت یاب ہو گئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں وائرس سے 1226 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی جس کے بعد مجموعی طور پر متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ 71 ہزار 264 ہو گئی۔
پاکستان میں وبا سے متاثرہ 2 لاکھ 37 ہزار 434 افراد کے صحت یاب ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے یوں وبا سے متاثر ہونے والے 87 فی صد افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 29ہزار 857 افراد اب بھی زیرِ علاج ہیں۔
پاکستان میں وبا سے ہلاکتوں کی شرح میں بھی کمی آئی ہے۔
حکام نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 35 افراد کی اموات کی تصدیق ہے جس کے بعد وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 5822 ہو گئی ہے۔
پاکستان میں وائرس سے متاثرہ دو فی صد افراد کی موت ہوئی ہے۔
دنیا بھر میں ایک ہی روز میں ریکارڈ دو لاکھ 84 ہزار سے زائد کیس
عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں جمعے کو کرونا وبا کے ریکارڈ دو لاکھ 84 ہزار 196 کیس رپورٹ ہوئے۔
ادارے کے مطابق یہ تعداد 18 جولائی کو رپورٹ ہونے والے ریکارڈ دو لاکھ 59 ہزار 848 کیسز سے بھی زیادہ ہے۔
تعداد کے لحاظ سے جمعے کو امریکہ میں لگ بھگ مزید 70 ہزار کیس رپورٹ ہوئے جب وائرس سے مسلسل چوتھے روز ایک ہزار کے لگ بھگ ہلاکتیں ہوئیں۔
دوسرے نمبر پر برازیل ہے جہاں جمعے کو 67 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے بھارت میں مزید 49 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہونے کے بعد مجموعی تعداد 13 لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔
کرونا وائرس: کرفیو کے باعث کینیا میں حاملہ خواتین مشکلات سے دوچار
افریقی ملک کینیا میں کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لگائے گئے کرفیو کے باعث حاملہ خواتین کی زندگی کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں شام سے صبح سویرے تک لگائے گئے کرفیو کے باعث ذرائع آمدورفت بھی معطل ہیں۔ ایسے میں حاملہ خواتین کو اسپتال تک پہنچنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اسپتالوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث بہت سی خواتین دائی کے ذریعے بچوں کو جنم دے رہی ہیں جس سے دورانِ زچگی اموات کی شرح میں اضافے کے علاوہ صحت کے دیگر مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔
ویرونیکا نامی خاتون نے خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ' پریس کو اپنی آب بیتی سناتے ہوئے بتایا کہ جب اُنہیں درد محسوس ہوا تو اسپتال جانے کے ذرائع نہ ہونے کے باعث اُنہوں نے مقامی دائی کے ذریعے بچے کو جنم دیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ وہ اس عمل کے دوران شدید تکلیف سے گزریں اور ساتھ ہی اُنہیں بچے کی صحت سے متعلق بھی خدشات کا سامنا کرنا پڑا۔
کینیا کا شمار بھی دنیا کے اُن ملکوں میں ہوتا ہے جہاں صحتِ عامہ کی ناکافی سہولیات کے باعث دورانِ زچگی اموات معمول ہیں۔
لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مارچ کے بعد سے لے کر اب تک دورانِ زچگی اموات کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
نیروبی کے ایک سرکاری اسپتال کی ڈاکٹر جمیما کاریوکی نے بتایا کہ جب مارچ میں کرفیو کا آغاز ہوا تو اسپتال خالی ہو گئے۔ اُن کے بقول ہمیں اطلاعات ملتی رہیں کہ بہت سی خواتین روایتی طریقوں سے بچوں کو جنم دے رہی ہیں۔