جرمنی میں کرونا وائرس کی تشخیص کا انوکھا طریقہ
کرونا وائرس کے خاتمے کے لیے دنیا بھر میں ویکسین کی تیاری کی کوششیں تیزی سے جاری ہیں۔اس وبا سے جلد نمٹنے کے لیے تشخیص کا مرحلہ بہت اہم ہے۔ اس مقصد کے لیے جرمن فوج نے ایک انوکھا طریقہ اپنایا ہے۔ وہ کتوں کی مدد سے کرونا وائرس کا پتا لگا رہی ہے۔ تفصیلات اس رپورٹ میں
کرونا وائرس پر کنٹرول، چین کی ٹیم کی ہانگ کانگ آمد
ہانگ کانگ میں کرونا کی وبا کی تیسری لہر کے اندیشے کو مد نظر رکھتے ہوئے چین نے شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والے ماہرین پر مشتمل سات رکنی ٹیم ہانگ کانگ بھیجی ہے۔
ساتوں اراکین ہانگ کانگ میں کرونا وائرس پر کنٹرول کے سلسلے میں حکام کی مدد کریں گے۔
چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے ہفتے کو رات گئے اعلان کیا کہ چینی ٹیم کے ممبران صوبہ گوانگ ڈونگ کے سرکاری اسپتالوں سے وابستہ ہیں۔
ماہرین میں سے 6 کا تعلق چین کے وسطی شہر ووہان سے ہے جہاں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔ جو بعد میں کرونا وائرس کا گڑھ بن گیا تھا۔
ووہان کے ماہرین کی ٹیم ہانگ کانگ میں کرونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال کرے گی۔
پاکستان میں وائرس سے متاثرہ صرف 10 فی صد مریض زیرِ علاج
پاکستان میں کرونا وائرس سے دو لاکھ 78 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ سرکاری طور پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے دو لاکھ 47 ہزار صحت یاب ہو چکے ہیں جب کہ 5951 کی موت ہوئی ہے۔
یوں پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے 88 فی صد افراد صحت یاب ہو چکے ہیں جب کہ 10 فی صد کے قریب مریضوں کا علاج جاری ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان میں اب تک 19 لاکھ 73 ہزار کے قریب افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
پاکستان میں ساڑھے گیارہ سو کے قریب افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
پاکستان میں عید پر سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے
پاکستان میں عید الاضحیٰ پر کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد کے حوالے سے سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔
سرکاری ویب سائٹ 'covid.gov.pk' کو 31 اگست کی صبح کے بعد سے اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے یہ واضح نہیں ہے کہ گزشتہ دو روز میں کتنے افراد وبا سے متاثر ہوئے ہیں۔
سرکاری طور پر اعداد و شمار سامنے نہ آنے کی وجہ سے یہ بھی واضح نہیں ہے کہ گزشتہ دو روز میں کتنی اموات ہوئی ہیں جب کہ کتنے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔