اقوام متحدہ کی کرونا وائرس پر کنٹرول کے لیے پاکستان کی امداد
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے ورچوئل بریفینگ میں بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے سلسلے میں مختلف شعبوں میں پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔
نیویارک سے وائس آف امریکہ نامہ نگار مارگریٹ بشیر نے خبر دی ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے بتایا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے دو لاکھ 80 ہزار سے زیادہ کیسیز ہیں اور 6 ہزار سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ اور انسانی خدمت کرنے والے شراکت کار کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پاکستانی حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان اور سندھ کے صوبوں میں خشک سالی کے شکار افراد میں 30 لاکھ ڈالر سے زیادہ نقد رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔ کشمیر میں برفباری کی وجہ سے متاثرہ 12 ہزار گھرانوں کو خوراک مہیا کی گئی۔
اسی طرح خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں کرونا وائرس سے اقتصادی طور پر متاثر ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ افراد کے لیے ہنگامی خوراک کی امداد کی فراہمی کی جا رہی ہے۔
35 ہزار پناہ گزین خاندانوں کو بھی نقد رقم دی گئی ہے۔ جب کہ تقریباً 30 لاکھ افراد کے لیے نکاسی آب، صاف پانی اور صحت عامہ کی سہولتیں بہم پہنچائی گئی ہیں۔
کرونا وائرس کے حوالے سے پاکستان کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جو امداد مانگی گئی ہے وہ 146 ملین ڈالر ہے، جس میں سے ایک چوتھائی امداد کی فنڈنگ ہو چکی ہے۔
ایران میں کرونا وائرس سے اموات کی اصل تعداد تین گنا زیادہ ہے، رپورٹ
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی فارسی سروس کو گم نام ذرائع سے ملنے والی دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ ایران میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد سرکاری تعداد سے تین گنا زیادہ ہے۔
بی بی سی کی فارسی سروس کا کہنا ہے کہ افشا ہونے والی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ ایران کا محکمہ صحت کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی جو تعداد بتا رہا ہے، وہ اصل تعداد سے کم از کم تین گنا کم ہے۔ ایران کی حکومت اس سلسلے میں حقائق کو چھپا رہی ہے۔
بی بی سی نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے اس ملک میں کرونا وائرس سے ہونے والی اموات ایرانی حکومت کی اعلان کردہ تعداد سے تقریباً تین گنا زیادہ ہیں۔ اصل میں ایران میں 20 جولائی تک 42 ہزار اموات ہو چکی تھیں، جب کہ محکمے نے صرف 14405 اموات کا اعلان کیا۔
اسی طرح انفکشن کی شرح بھی مجموعی طور پر کم بتائی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ شرح دوگنی کے قریب ہے۔ محکمہ صحت نے انفکشن کی تعداد 278827 بتائی ، جب کہ بی بی سی کی اطلاعات کے مطابق یہ تعداد 451024 ہے۔
بی بی سی کو جو میڈیکل رپورٹس ملی ہیں، ان کے مطابق ایران میں کرونا وائرس کی پہلا ہلاکت 22 جنوری کو ہوئی۔ جب کہ ایران نے تقریباً ایک مہینے تک اس خبر کو دبائے رکھا۔
بی بی سی کا کہنا ہے کہ ایران خواہ حقیقت پر کتنا ہی پردہ ڈالے، یہ بات عیاں ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کرونا وائرس سے ایران سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔
نامعلوم ذرائع نے، جس کا نام پوشیدہ رکھا گیا ہے، بی بی سی کو بتایا کہ اس نے یہ دستاویزات اصل حقائق منظر عام پر لانے کی غرض سے افشا کی ہیں۔ اور اس کا مقصد کرونا وائرس کے معاملے سیاسی داؤ پیچ کے سلسلے کو ختم کرنا ہے۔
آسٹریلیا کے دوسرے بڑے شہر ملبورن میں پابندیاں مزید سخت
آسٹریلیا کے دوسرے بڑے شہر ملبورن میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اتوار سے رات کا کرفیو عائد کر دیا ہے جو آئندہ چھ ہفتوں تک نافذ العمل رہے گا۔ ملبورن میں رات آٹھ بجے سے صبح پانچ بجے تک گھروں سے نکلنے پر پابندی ہو گی۔
ملبورن میں تمام غیر ضروری کاروباروں کو بھی دوبارہ بند کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ ملبورن کے زیادہ تر اسٹوروں کی بندش کے علاوہ تعمیرات اور گوشت کے پیداواری کارخانوں کو جمعے سے کاروبار محدود کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمۂ صحت کے حکام نے ریاست وکٹوریہ میں 'کووڈ 19' کے 429 نئے کیسز اور 13 اموات کی اطلاع دی ہے۔ ان کیسز میں ملبورن میں رپورٹ ہونے والے کیسز بھی شامل ہیں۔ ریاست وکٹوریہ نے کرونا وائرس کی وبا کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے سخت پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔
فلپائن میں کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کا فیصلہ
فلپائن میں کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیشِ نظر حکومت نے لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منگل سے تقریباً دو کروڑ 70 لاکھ افراد اپنے گھروں تک محدود رہنے پر مجبور ہوں گے۔
فلپائن میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ دو ہزار سے زائد ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ وائرس کے پھیلاؤ میں جون سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
فلپائن میں نئی پابندیوں کا اعلان صدر روڈریگو ڈوٹیرتے نے اتوار کو کیا جس کے مطابق دارالحکومت منیلا اور اس کے اطراف کے چار صوبوں میں منگل سے لاک ڈاؤن کیا جائے گا۔
یہ لاک ڈاؤن دو ہفتوں کے لیے نافذ العمل ہوگا جس کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ اور منی بسیں بند اور ڈومیسٹک فلائٹس گراؤنڈ رہیں گی۔ لوگوں کو اپنے گھروں پر رہنا ہوگا اور اشد ضرورت یا اشیائے خور و نوش کی خریداری کے لیے ہی انہیں گھروں سے نکلنے کی اجازت ہو گی۔