افریقہ میں ملیریا سے اموات میں اضافے کا خدشہ
ماہرینِ صحت خبردار کر رہے ہیں کہ کرونا وائرس کی وجہ سے صحت کی سہولتوں پر جو بوجھ پڑا ہے اس سے افریقہ میں تپِ دق، ملیریا اور ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے کیوں کہ انہیں علاج کی ضروری سہولتوں تک رسائی نہیں مل رہی۔ مزید دیکھیے اس رپورٹ میں
بھارت میں 55 ہزار نئے کیسز رپورٹ
بھارت میں منگل کو کرونا وائرس کے 55 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد 27 لاکھ دو ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔
بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار 876 مریض دم توڑ گئے ہیں۔ اس طرح عالمی وبا سے بھارت میں مرنے والوں کی کل تعداد 51 ہزار 797 ہو گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وبا سے اب تک 19 لاکھ 77 ہزار سے زیادہ مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔
جنوبی افریقہ میں ویکسین کے تجربات کے دوسرے مرحلے کا آغاز
امریکہ کی ویکسین تیار کرنے والی کمپنی نووا ویکس کرونا وائرس کی ویکسین کے انسانوں پر تجربات کے دوسرے مرحلے کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔
کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دو ہزار 665 صحت مند اور بالغ افراد پر ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز ہوں گے۔
جنوبی افریقہ کرونا وائرس سے متاثرہ ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے جہاں عالمی وبا سے متاثرہ پانچ لاکھ 83 ہزار سے زیادہ مریض موجود ہیں جب کہ 11 ہزار 600 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
'کرونا سے صحت یاب ہونے والے تین ماہ تک دوبارہ وبا کا شکار ہونے سے محفوظ رہتے ہیں'
امریکہ میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے سابق عہدے دار اور ماہرِ امراض ڈاکٹر اسکاٹ گوٹلیب نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے لوگ یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ کم سے کم تین ماہ اور زیادہ سے زیادہ ایک سال تک دوبارہ اس مرض کا شکار نہیں ہو سکتے۔
ڈاکٹر گوٹلیب نے یہ گفتگو اتوار کو امریکی نشریاتی ادارے 'سی بی ایس' کے ایک پروگرام میں کی۔ ڈاکٹر گوٹلیب نے امریکہ میں بیماریوں کی روک تھام کے ادارے 'سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن' کے کرونا سے متعلق نئے حقائق کے بارے میں بتایا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات تو یقینی ہے کہ کرونا سے صحت یاب ہونے والے مریض کم از کم تین ماہ تک دوبارہ وائرس کا شکار ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔ البتہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ چھ سے 12 ماہ تک اپنی قوتِ مدافعت کی بدولت اس وبا کا دوبارہ شکار ہونے سے بچے رہیں۔