لبنان میں دو ہفتوں کے لیے جزوی لاک ڈاؤن کا آغاز
لبنان میں جمعے سے دو ہفتوں کے لیے جزوی لاک ڈاؤن کا آغاز ہو گیا ہے۔
کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے عائد کردہ لاک ڈاؤن کا دورانیہ صبح چھ بجے سے شام چھ بجے تک ہو گا۔
حکام کی جانب سے شہریوں کو گھروں میں ہی رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ لبنان میں مارچ کے وسط میں بھی ایک ماہ کے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا۔
لبنان میں اب تک کرونا وائرس کے 10 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں اور اس وبا کا شکار ہونے والے 113 مریض ہلاک ہوئے ہیں۔
چار اگست کو دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں بعض اسپتال بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور حکام کو خدشہ ہے کہ کرونا وائرس کے کیسز میں مزید اضافے سے ملک کے صحت کے شعبے پر برے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
امریکہ: کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں زبان اور عدم اعتماد بڑی رکاوٹ
کرونا کی وبا سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے یہ جاننا بہت اہم ہے کہ مریض کن لوگوں سے براہِ راست رابطے میں رہا۔ مگر امریکہ جیسے ملک میں جہاں بہت سی زبانیں بولنے والے لوگ رہتے ہیں، اصل دشواری ان علاقوں میں پیش آتی ہے جہاں لوگ انگریزی بالکل نہیں سمجھتے۔
اس کے علاوہ تارکینِ وطن کے اندیشے اور خوف بھی اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کی کوششوں میں حائل ہو رہے ہیں۔
امریکی شہر شکاگو کے قریب 125 آبادیاں ایسی ہیں جہاں کے مکین ہسپانوی زبان بولتے ہیں۔ ہیوسٹن کے ہیلتھ ورکرز بھی اسی مسئلے سے دوچار ہیں۔ کیلی فورنیا میں تارکینِ وطن کو تربیت دی جا رہی ہے کہ وہ کس طرح ہیلتھ ورکرز کے ساتھ تعاون کریں اور ان پر اعتماد کریں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ بھر میں کرونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے مریض سے رابطے میں آنے والوں کی تلاش صحت کے عملے کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس وقت فلوریڈا، ٹیکساس، ایریزونا اور کیلی فورنیا میں کرونا وبا سب سے زیادہ زوروں پر ہے اور انہیں ریاستوں میں ہسپانوی زبان بولنے والے کثرت سے رہتے ہیں۔
اسی طرح ریاست میری لینڈ کے جس علاقے میں سب زیادہ کرونا وائرس پھیلا، وہاں کے 56 فی صد بالغ افراد ہسپانوی زبان بولتے ہیں۔ میری لینڈ میں کرونا کے مریضوں کے ساتھ رابطے میں آنے والے افراد تلاش کرنے والوں کی تعداد 1350 ہے جن میں سے صرف 60 افراد ہسپانوی زبان بول سکتے ہیں۔
زبان کے علاوہ ایک اور مسئلہ عدم اعتماد کا بھی ہے۔ تارکینِ وطن معلومات حاصل کرنے والوں پر شک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔ خاص طور پر فون پر پوچھے گئے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا جاتا ہے۔
روس میں اموات 16 ہزار سے متجاوز
روس میں کرونا وائرس سے ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 16 ہزار کا ہندسہ عبور کر گئی ہے۔
کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں امریکہ، برازیل اور بھارت کے بعد چوتھے نمبر موجود روس میں جمعرات کو مزید 110 اموات رپورٹ ہوئیں جس کے بعد ہلاکتوں کی کل تعداد 16 ہزار 99 ہو گئی ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق روس میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4785 نئے کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔ ملک میں کرونا کیسز کی مجموعی تعداد نو لاکھ 42 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔
'جنوبی کوریا میں وائرس پوری شدت سے واپس آ رہا ہے'
جنوبی کوریا کے حکام نے کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز سے متعلق خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں وائرس پوری شدت سے واپس آ رہا ہے۔
جنوبی کوریا میں ہونے والے ایک مظاہرے کے بعد کرونا وائرس کے یومیہ کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں انہوں نے جو کامیابی حاصل کی تھی، اسے اب خطرہ ہو سکتا ہے۔
جنوبی کوریا میں امراض کی روک تھام کے ادارے 'کوریا سینٹرز فور ڈیزیز کنٹرول' کے مطابق بدھ کو کرونا وائرس کے 288 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ منگل کو 297 کیسز سامنے آئے تھے۔
جنوبی کوریا کے نائب وزیرِ صحت کِم گینگ لپ نے کہا ہے کہ یہ صورتِ حال خاصی تشویش ناک ہے۔
خیال رہے کہ جنوبی کوریا ان ملکوں میں شامل ہے جہاں چین کے بعد کرونا وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا۔ تاہم بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ اور حفاظتی تدابیر اختیار کر کے جنوبی کوریا میں وبا کو کنٹرول کر لیا گیا تھا۔
جنوبی کوریا میں کیسز کی مجموعی تعداد 16 ہزار سے زائد ہو چکی ہے جب کہ تین سو سے زائد اموات بھی ہوئی ہیں۔