رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

14:04 25.8.2020

کیا مچھر کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے

Mosquitoes
Mosquitoes

ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھر ملیریا اور بعض دیگر امراض کے پھیلاؤ کا سبب تو بنتے ہیں لیکن ان کے ذریعے کرونا وائرس نہیں پھیل سکتا۔

امریکہ کے وبائی امراض کے ادارے 'سی ڈی سی' کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ مچھر کرونا وائرس پھیلا سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس ایک شخص سے دوسرے میں اس وقت منتقل ہوتا ہے جب کوئی شخص بات چیت کر رہا ہو، کھانس رہا ہو یا وہ نزلے کا شکار ہو۔

عالمی ادارۂ صحت نے بھی کہا ہے کہ مچھر کے کاٹنے سے کرونا وائرس نہیں پھیلتا۔

12:21 25.8.2020

پاکستان میں نو اموات، 450 کیسز رپورٹ

پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار نو مریض دم توڑ گئے ہیں جب کہ 450 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں عالمی وبا سے اب تک 6255 افراد ہلاک اور دو لاکھ 93 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ دو لاکھ 78 ہزار سے زیادہ مریض صحت یاب ہو چکے ہیں اور اب بھی 672 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

12:11 25.8.2020

ڈبلیو ایچ او کی بچوں کے ماسک پہننے کے لیے گائیڈ لائنز

دنیا کے کئی ملکوں میں اسکول کھولنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ ایسے میں عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بچوں کے ماسک پہننے سے متعلق گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف نے کہا ہے کہ چھ برس سے کم عمر بچوں کو ماسک نہیں پہننا چاہیے اور وہ بچے جن کی عمریں چھ برس سے 11 برس تک کی ہیں انہیں ماسک پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف نے کہا ہے کہ محدود دستیاب شواہد کے مطابق کم عمر بچوں میں بالغوں کے مقابلے میں انفیکشن کا امکان کم ہوتا ہے۔ تاہم بچوں میں عمر کے لحاظ سے اس میں فرق بھی ہو سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق 12 برس سے زائد عمر کے بچوں کو بالغ تصور کیا جائے اور ان پر ماسک پہننا لازم ہے۔

ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف نے تنبیہ کی ہے کہ ماسک دستیاب نہ ہونے کی صورت میں کسی بچے کو تعلیم سے نہیں روکا جا سکتا۔

20:44 24.8.2020

خیبر پختونخوا کے سات ہوٹلوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن

فائل فوٹو
فائل فوٹو

خیبر پختونخوا کے مختلف سیاحتی مقامات پر کرونا وائرس کے سدباب کے لیے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سات ہوٹلوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔

کرونا وائرس کے ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے صوبائی حکومت نے کاغان، ناران اور گلیات کے کچھ ہوٹلوں کے ملازمین اور ان میں ٹھیرنے والے سیاحوں میں کرونا کی تشخیص کے بعد خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔

کاغان میں تین روز قبل کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تشخیص کے بعد صوبائی محکمۂ صحت کے حکام نے سات ہوٹلوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر کے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا ہے اور متعلقہ ہوٹلوں میں سیاحوں کے قیام کو بھی محدود کر دیا ہے۔

کاغان ترقیاتی ادارے کے افسران نے بتایا ہے کاغان اور ناران کے تمام ہوٹلوں اور ریستورانوں میں کرونا سے حفاظت کے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کے لیے ادارے کے سربراہ حافظ محمد آصف اور دیگر افسران روزانہ چھاپے مارتے ہیں اور چیکنگ بھی کرتے ہیں۔

کاغان میں واقع ایک ہوٹل کے مینیجر عمر شکیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ تمام ہوٹلوں میں حکومت کے وضع کردہ قواعد و ضوابط پر عمل کیا جا رہا ہے۔

ان کے بقول ہوٹل کے کمروں میں کم سے کم مہمانوں کو ٹھیرایا جاتا ہے اور ان مہمانوں کے لیے کھانے پینے کی اشیا الگ الگ پلیٹوں اور گلاسوں میں پیش کی جا رہی ہیں۔

ضلع مانسہرہ کے علاقے کاغان، ناران اور شوگران کے علاوہ ضلع ایبٹ آباد کے گلیات کے علاقے بھی ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے پسندیدہ مقامات ہیں۔ یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد ہر سال لاکھوں میں ہوتی ہے۔

نتھیاگلی کے حکام کے مطابق چند روز قبل 10 سیاحوں اور 60 سے زیادہ ہوٹل ملازمین اور مالکان میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد گلیات ترقیاتی ادارے اور ایبٹ آباد کی ضلعی انتظامیہ نے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

گلیات ترقیاتی ادارے کے ترجمان احسن نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کے بعد پچھلے کئی دنوں سے کرونا وائرس کا کوئی بھی مریض سامنے نہیں آیا ہے۔

ادھر خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات کامران بنگش نے کاغان، ناران میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تشخیص کے بعد جاری کردہ بیان میں کیا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں سیاحتی مقامات پر کسی قسم کی پابندی زیر غور نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے سدباب کے لیے کاغان ترقیاتی ادارے اور ضلعی انتظامیہ نے ہوٹلوں کی انتظامیہ کے نمونے لیے۔ ان کے بقول سات ہوٹلوں اور ریستورانوں کے عملے میں کرونا کی تشخیص ہوئی جن میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔

کامران بنگش نے سیاحوں، ہوٹل مالکان اور ملازمین سے کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ایس او پیز پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

خیال رہے کہ کرونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران بند کیے جانے والے سیاحتی مقامات رواں ماہ ہی کھلے ہیں جس کے بعد ہزاروں لوگ ان مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG