برطانیہ میں جامعات اور کالجز آئندہ ماہ بھی بند رکھنے کا مطالبہ
برطانیہ میں کالجز اور یونیورسٹیوں کی نمائندہ تنظیم 'یو سی جی' نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس کے پیشِ نظر کالجز اور یونیورسٹیاں اگلے ماہ سے نہ کھولی جائیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ کالجز اور یونیورسٹیاں کھلنے کی وجہ سے دوسرے ممالک سے طلبہ برطانیہ آئیں گے۔ جس کے سبب کرونا وائرس کے کیسوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یو سی جی کی جنرل سیکریٹری جو گریڈی کے بیان کے مطابق برطانیہ کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں 10 لاکھ سے زائد طلبہ کے آنے سے کرونا وائرس کی دوسری لہر آ سکتی ہے۔
جو گریڈی نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اگلے ماہ سے کالجز اور یونیورسٹیاں کھولنے سے متعلق اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور فرسٹ ٹرم کے لیے آن لائن طریقۂ تدریس اپنائے۔
دوسری طرف جامعات کا کہنا ہے کہ وہ تعلیمی سلسلہ دوبارہ سے شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
برطانیہ میں احتجاج، مظاہرین کا پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ
برطانیہ کے شہر لندن میں ہفتے کے روز مظاہرین نے ٹریفالگر اسکوائر پر احتجاج کیا۔
مظاہرین نے کرونا وائرس کو ایک دھوکہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عائد پابندیاں ختم کرے۔
مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کرونا وائرس کو ‘فیک نیوز’ قرار دیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ برطانیہ میں وبا سے 41 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ڈرائیو اِن سنیما کے بعد اب پیشِ خدمت ہے ڈرائیو تھرو تھیٹر
کرونا وائرس کے سبب امریکہ میں سنیما اور تھیٹر یا تو اب تک مکمل طور پر کھلے ہی نہیں ہیں یا پھر لوگ احتیاطاً وہاں جانے سے گریز کر رہے ہیں۔ ایسے میں ڈرائیو اِن سنیما اور اوپن تھیٹرز کا رجحان زور پکڑ رہا ہے جہاں شائقین سنیما اور تھیٹر کی نشستوں کے بجائے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر پرفارمنس دیکھتے ہیں۔
جرمنی میں پابندیوں کے خلاف احتجاج، 300 مظاہرین گرفتار
یورپی ملک جرمنی کے دارالحکومت برلن میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ کردہ پابندیوں کے خلاف مظاہروں کے دوران پولیس نے فیس ماسک نہ پہننے اور سماجی فاصلہ نہ رکھنے کے جرم میں 300 مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں میں لگ بھگ 38 ہزار مظاہرین نے شرکت کی۔
مظاہروں کے منتظمین کی طرف سے سوشل میڈیا پر لوگوں سے کرونا وائرس کے سبب عائد کردہ پابندیوں کے خلاف برلن میں احتجاج میں شرکت کی اپیل کی گئی تھی۔
جرمن حکومت نے کرونا وائرس کے پیشِ نظر مظاہروں پر پابندی عائد کی تھی۔ تاہم ایک مقامی عدالت کی طرف سے مظاہرین کو برلن میں احتجاج کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔