بھارت میں کیسز کی تعداد 49 لاکھ سے تجاوز کر گئی
بھارت میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 49 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور اس وبا سے اب تک 80 ہزار سے زیادہ مریض ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔
بھارت کی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 83 ہزار سے زیادہ افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور وبا کے شکار ہونے والے ایک ہزار 54 مریض بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق ملک بھر میں کرونا کا شکار ہونے والے 38 لاکھ سے زیادہ مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جب کہ لگ بھگ دس لاکھ مریض زیرِ علاج ہیں۔
بھارتی ریاست مہاراشٹرا سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں کیسز کی تعداد کسی بھی ریاست کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔
کرونا وائرس سے متاثرہ ملکوں کی فہرست میں بھارت دوسرے نمبر پر ہے۔
پاکستان میں چھ ماہ بعد تدریسی عمل بحال
پاکستان میں کرونا کیسز میں کمی کے بعد منگل سے تعلیمی اداروں کے مرحلہ وار کھلنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
پہلے مرحلے میں منگل سے نویں سے بارہویں جماعت اور یونیورسٹی کی کلاسز میں تدریسی عمل بحال کیا گیا ہے جس کے بعد 23 ستمبر سے چھٹی سے آٹھویں جماعت اور پھر 30 ستمبر سے پرائمری اسکولوں میں پڑھائی شروع ہو گی۔
تعلیمی اداروں میں کرونا وائرس سے متعلق حکومتی اعلان کردہ حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسکولوں اور کالجز میں داخلے کے مقام پر طلبہ کے درمیان سماجی فاصلہ رکھنے کے لیے نشان بنائے گئے ہیں جب کہ بعض اسکولوں میں واک تھرو جراثیم کش گیٹ نصب کرنے کے علاوہ داخلی دروازے پر ہی طلبہ کے ہاتھوں کو سینیٹائز کیا گیا۔
درس گاہ کے اندر بھی طلبہ میں سماجی دوری کے لیے فاصلہ رکھا گیا ہے جب کہ حکام نے کلاسز میں طلبہ کو ماسک پہننے کی ہدایت کی ہے۔
یورپ میں اکتوبر، نومبر میں کرونا سے ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں: عالمی ادارہ صحت
عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اکتوبر اور نومبر میں یورپ کرونا وبا سے شدید متاثر ہو گا جب کہ ہلاکتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔
یورپ میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر ہانس کلوگ نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ بدقسمتی سے اکتوبر اور نومبر یورپ کے کئی ملکوں کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔ اُن کے بقول کرونا وبا سے یورپ میں ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے عہدے دار کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس اور اسپین سمیت یورپ کے 55 ممالک میں جمعے کو کرونا کے 51 ہزار کے لگ بھگ کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ یہ تعداد اپریل میں یومیہ تعداد سے بھی زیادہ ہے جب یورپ میں وبا کی شدت تھی۔
اگرچہ یورپ میں کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں مگر ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا۔ مگر عالمی ادارہ صحت کے مطابق کیسز کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے آئندہ دنوں میں ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں۔
'اے ایف پی' خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے ہانس کلوگ نے کہا کہ ’’یہ ایسا وقت ہے کہ کئی ممالک بری خبر سننا نہیں چاہتے۔ ہم ان کی یہ خواہش سمجھ سکتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ وہ بھی مثبت خبر دینے پر زور دیتے ہیں مگر’یہ وقت کبھی نہ کبھی ختم ہو گا۔
کرونا کیسز میں کمی، سعودی عرب کا فضائی آپریشن جزوی بحال کرنے کا فیصلہ
سعودی عرب نے 15 ستمبر سے فضائی آپریشن کی جزوی بحالی کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت صرف سعودی شہری اور رہائشی بیرونِ ملک آ جا سکیں گے۔
سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے اتوار کے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حکام نے 15 ستمبر سے فضائی آپریشن کی جزوی بحالی کی اجازت دی ہے جب کہ آئندہ برس یکم جنوری کے بعد مملکت میں ہر قسم کی سفری پابندیاں ختم کر دی جائیں گی۔
رواں برس مارچ میں سعودی حکومت نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہوائی سفر پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی تھی۔
سعودی حکام کی جانب سے 15 ستمبر کے بعد جن افراد کو بیرونِ ملک سفر کی اجازت ہو گی ان میں سول اور ملٹری ملازمین، سفارت کار اور ان کے خاندان، سرکاری یا نجی ملازم، تاجر، بیرونِ ملک علاج کی غرض سے جانے والے مریض، بیرونِ ملک پڑھنے والے طلبہ، فلاحی کارکن اور کھیلوں کی ٹیمیں شامل ہیں۔