بھارت: 92 ہزار سے زائد نئے کیس، ایک ہزار سے زائد ہلاکتیں
دنیا بھر میں امریکہ کے بعد کرونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بھارت میں 24 گھنٹوں کے دوران مزید 92 ہزار 605 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
وزارت صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اتوار کو کرونا وائرس کے باعث مزید ایک ہزار 133 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں جس کے بعد اس وبا کے سبب ہلاکتوں کی تعداد 86 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق اس وبا سے اب تک بھارت میں 54 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق بھارت میں اس وبا سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد لگ بھگ 80 فی صد ہے۔
پاکستان میں ایک دن میں ریکارڈ 35 ہزار 720 ٹیسٹ
پاکستان میں حکام نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کے متاثرہ افراد کی نشاندہی کے لیے 35 ہزار 720 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان میں مارچ کے آخر میں یومیہ ایک ہزار کے قریب ٹیسٹ کیے جا رہے تھے۔ حکومت نے ٹیسٹ کرنے کی استعداد میں اضافہ کیا ہے اور گزشتہ دو دن میں ریکارڈ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 17 ستمبر کو 33 ہزار 865 ٹیسٹ کیے گئے تھے۔
ملک بھر میں اب تک 31 لاکھ 26 ہزار 380 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
قبل ازیں پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیسٹ جون کے وسط میں کیے گئے تھے جب 18 جون کو 31 ہزار 500 اور 20 جون کو 31 ہزار 681 ٹیسٹ کیے گئے۔
اس کے بعد ٹیسٹ کرنے کی تعداد میں کمی آئی اور یومیہ 20 ہزار سے 25 ہزار تک ہی ٹیسٹ کیے جا رہے تھے۔
اسٹریٹ اسکولز: 'کرونا کی وجہ سے ساری محنت رائیگاں گئی'
لاہور میں کئی سماجی کارکن اور رضا کار جھونپڑیوں اور کچی بستیوں میں رہنے والے بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ ان میں سے اکثر بچے سڑکوں پر بھیک مانگتے ہیں۔ کرونا کی وبا سے قبل وہ بہت سے بچوں کو پڑھائی کی طرف لا چکے تھے لیکن عالمی وبا نے ان کی تمام تر محنت پر پانی پھیر دیا ہے۔ تفصیلات ثمن خان کی اس رپورٹ میں
نصف امریکی کرونا وائرس کی ویکسین لینے کے حق میں نہیں ہیں: سروے
ماہرین امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ رواں برس کے اختتام سے پہلے کرونا وائرس کی ویکسین عوامی سطح پر دستیاب ہو جائے گی جس سے تیزی سے پھیلنے والی مہلک وبا کو روکنے میں مدد ملے گی۔ مگر دوسری جانب ایک حالیہ سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ تقریباً نصف امریکی ویکسین استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
امریکہ میں 'پیو ریسرچ سینٹر' کے رواں ماہ کیے گئے جائزے کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ کرونا وائرس کی ویکسین دستیاب ہونے کی صورت میں 49 فی صد امریکی ویکسین لینے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ جب کہ 51 فی صد کا کہنا ہے کہ وہ ویکسین ضرور لیں گے۔
ویکسین لگوانے سے انکار کرنے والے امریکیوں کا کہنا ہے کہ انہیں ویکسین کے منفی اثرات سے متعلق خدشات ہیں۔
حالیہ سروے کے نتائج اس سے قبل مئی میں 'پیو ریسرچ سینٹر' کی جانب سے کیے گئے اسی طرح کے جائزے سے مختلف ہیں جس میں 72 فی صد امریکیوں نے کہا تھا کہ ویکسین آنے پر وہ اپنے بچاؤ کے لیے اسے ضرور استعمال کریں گے۔