کرونا بحران: تارکینِ وطن ملازمین کے لیے مسائل بھی اور مواقع بھی
تارکینِ وطن محنت کش اور ماہر افراد اپنے میزبان اور آبائی ملکوں کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار کرتے ہیں اور گزشتہ عشروں میں ان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم بھی کیا گیا ہے۔
رواں سال کے شروع سے پھوٹنے والی کرونا کی عالمی وبا نے جہاں لوگوں کی بہتر مستقبل کی جستجو کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے عمل کو روک دیا وہاں بہت سے تارکینِ وطن کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ نے اس ہفتے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی وبا کے باعث دنیا کے کئی ممالک میں روزگار کے مواقع کم ہونے کا سب سے گہرا اثر تارکینِ وطن ملازمین پر ہوا ہے۔
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے سینیئر اہلکار گیری رین ہارٹ کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ غیر رسمی معاشی شعبوں میں کام کرتے ہیں جہاں بیمار ہونے یا بے روزگار ہونے کی صورت میں اُنہیں باقاعدہ ملازمین کی طرز کا تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔ ایسا خاص طور پر ترقی پزیر ممالک میں دیکھنے میں آتا ہے کیونکہ وہاں بہت سے محنت کش سال کے مخصوص حصوں میں موسمی کارکنان کے طور پر کام کرتے ہیں۔
کرونا بحران میں بہت سے تارکینِ وطن اس موزی مرض کا شکار ہوئے اور بہت سے باقی لوگوں کو ان کے آبائی وطن واپس بھیج دیا گیا۔
پاکستان میں 799 نئے کیسز، پانچ اموات
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے 799 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ مزید پانچ افراد کی ہلاکت کے بعد اموات کی کل تعداد چھ ہزار 437 ہو گئی ہے۔
ملک میں کرونا کے کیسز کی مجموعی تعداد تین لاکھ آٹھ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ ایکٹو کیسز سات ہزار سے کچھ زیادہ ہیں۔
یورپی ملکوں میں کرونا وائرس کی دوسری لہر، پابندیاں پھر سے لگنے لگیں
یورپی ملکوں میں کرونا وائرس کی شدت کم ہو گئی تھی لیکن اب برطانیہ، فرانس اور اسپین میں کیسز دوبارہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
اسپین میں کرونا وائرس نے رواں سال فروری میں اپنا زور دکھایا تھا لیکن پھر مئی میں یومیہ کیسز کی تعداد کم ہو کر چند سو رہ گئی تھی۔
جولائی کے آخری عشرے میں اسپین میں وائرس دوبارہ پھیلنا شروع ہوا اور یومیہ کیسز اب پھر سے بڑھ کر ہزاروں میں رپورٹ ہو رہے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسپین میں 11 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
دوسری جانب فرانس میں بھی یہی صورتِ حال ہے جہاں یومیہ کیسز کی تعداد 10 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ فرانس میں بدھ کو 13 ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
ادھر برطانیہ میں 'کووڈ 19' کے کیسز میں اضافے کے بعد حکومت نے دوبارہ مختلف پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ برطانیہ میں ہر ہفتے سامنے آنے والے کیسز کی تعداد گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں تقریباً دو گنا ہو رہی ہے۔
بدھ کو برطانیہ میں چھ ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر برطانیہ میں کرونا وائرس اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو اکتوبر میں یومیہ کیسز کی تعداد 50 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔
خیال رہے کہ برطانیہ یورپ کا وہ ملک ہے جہاں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
کرونا کیس میں اضافے کے پیشِ نظر برطانوی حکومت نے کچھ پابندیاں دوبارہ عائد کر دی ہیں۔ شراب خانوں اور ریستورانوں کو رات 10 بجے بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
بارز اور ریستورانوں کے ملازمین، ٹیکسی ڈرائیوروں اور دکان داروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ فیس ماسک پہنے رہیں۔ لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر ان کے لیے گھر سے کام کرنا ممکن ہو تو اسے ترجیح دیں۔
چین کی ویکسین کے 'کلینکل ٹرائلز' پاکستان میں شروع
پاکستان کے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کی ممکنہ ویکسین 'کین سینو' کے تیسرے مرحلے کی طبی آزمائش شروع کر دی گئی ہے۔
اسد عمر کا کہنا ہے کہ کرونا ویکسین چین کی ایک کمپنی نے تیار کی ہے۔ آزمائشی مرحلے میں 8 سے 10 ہزار پاکستانی شریک ہوں گے۔ جب کہ ٹیسٹ کے ابتدائی نتائج 4 سے 6 ماہ میں متوقع ہیں۔
وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے توقع ظاہر کی ہے کہ ویکسین کے کلینکل ٹرائلز سے ملک میں دیگر بیماروں کے لیے ویکسین تیار کرنے کی گنجائش میں اضافہ ہو گا۔
اسد عمر کا کہنا ہے کہ ویکسین کے ٹرائلز میں 7 ممالک کے 40 ہزار افراد رضاکارانہ طور پر شریک ہو رہے ہیں۔