پاکستان میں کرونا سے سات اموات، 798 افراد میں وائرس کی تشخیص
بھارت میں مسلسل پانچویں روز 90 ہزار سے کم کیسز رپورٹ
بھارت میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے مزید 86 ہزار 52 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ گزشتہ پانچ روز کے دوران کیسز میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
بھارت میں پانچ روز قبل تک یومیہ کیسز کی تعداد 90 ہزار سے زیادہ رپورٹ ہو رہی تھی۔
وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں کیسز کی مجموعی تعداد 58 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ گزشتہ چوبیس گھںٹوں میں مزید 1141 اموات ہوئی ہے جس کے بعد ہلاکتوں کی کل تعداد 92 ہزار 290 تک پہنچ چکی ہے۔
بھارت کی وزارتِ صحت کے مطابق ملک میں کرونا وائرس سے ریکوری کی اوسط 81 فی صد سے زائد ہے اور عالمی وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ پانچ ریاستوں میں مہاراشٹرا، آندھرا پردیس، تامل ناڈو، کرناٹکا اور اترپردیش ہیں جہاں 60 فی صد سے زائد کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
امریکہ میں کرونا کیسز کی تعداد 70 لاکھ تک پہنچ گئی
دنیا کا سب سے زیادہ کرونا وائرس سے متاثرہ ملک امریکہ ہے جہاں کیسز تعداد 70 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔
کیسز کے اعتبار سے ریاست کیلی فورنیا سب سے آگے ہے جہاں اب تک آٹھ لاکھ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جس کے بعد ٹیکساس، فلوریڈا اور نیویارک میں زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
امریکہ میں گزشتہ ہفتے کیسز کی تعداد میں اچانک اضافہ نوٹ کیا گیا جو مسلسل آٹھ ہفتوں میں کیسز کی کمی کے بعد اچانک اضافہ تھا۔
ماہرینِ صحت کے مطابق کیسز کا حالیہ اضافہ اسکول اور یونیورسٹی کھلنے کے علاوہ لیبر ڈے کی چھٹیوں کے موقع پر مختلف تقاریب کے انعقاد کی وجہ سے ہے۔
امریکہ میں عالمی وبا سے اب تک دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں اور روزانہ تقریباً 700 اموات ہو رہی ہیں۔ امریکہ میں عالمی وبا سے ہونے والی اموات کی یہ تعداد دنیا میں کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔
برطانیہ میں کرونا وائرس کی نشان دہی کے لیے ایپلی کیشن کا اجرا
برطانیہ میں کرونا وائرس کی ایک ایسی ایپلی کیشن متعارف کرائی گئی ہے جس سے رابطے میں آنے والے افراد، پر خطر مقامات اور جگہوں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں، جہاں لوگوں کو جانے کی اجازت دی گئی ہو۔
اس ایپلی کیشن کو جمعرات کے روز انگلینڈ اور ویلز میں لانچ کیا گیا ہے۔
نیشنل ہیلتھ سروسز کی کرونا وائرس کی ایپلی کیشن ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب برطانیہ کو وبا کی دوسری لہر کا سامنا ہے اور وہاں ان دنوں روزانہ کی بنیاد پر کیسز کی تعداد اس کے قریب پہنچ رہی ہے جتنی پہلی لہر کے عروج کے دنوں میں تھی۔
حکومت نے کرونا وائرس کی ایپلی کیشن مئی میں متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔ مگر ابتدائی ٹرائل میں مسائل پیدا ہو گئے تھے۔ بعد ازاں یہ ایپلی کیشن تیار کرنے والوںں نے مقامی ماڈلز ترک کر کے گوگل اور ایپل کے ماڈلز کے استعمال سے اسے مکمل کیا۔
ایپلی کیشن کی ریلیز میں تاخیر پر حکومت کا مؤقف یہ تھا کہ اسمارٹ فونز کے ذریعے کرونا کا مقابلہ کرنا اہم نہیں ہے۔
تاہم اب برطانیہ کے امورِ صحت کے سیکرٹری میٹ ہنکاک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جیسے جیسے روزانہ کی بنیاد پر کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ہر ذریعے کو وائرس سے لڑنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔