کیا کرونا سے متاثرہ افراد دوسری بار بھی وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں؟
اگر آپ ایک بار کرونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں تو یہ امکان موجود ہے یہ وبا دوبارہ بھی آپ کو متاثر کر سکتی ہے۔ لیکن کب؟ یہ معلوم نہیں ہے۔
ہانگ کانگ میں طبی تحقیق کے بعد ماہرین نے بتایا ہے کہ یہ شواہد ملے ہیں کہ ایک شخص جسے پہلے بھی کرونا وائرس ہو چکا تھا۔ کئی ماہ کے بعد اس میں دوبارہ عالمی وبا کی ابتدائی علامتیں ظاہر ہوئی ہیں۔
یہ تحقیق ابھی سائنسی اور طبی جرائد میں شائع نہیں ہوئی ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص پر جب پہلی بار کرونا وائرس کا حملہ ہوا تھا، تب اس کی علامات کم سطح کی تھیں اور اب دوسری بار وائرس میں مبتلا ہونے کے باوجود وبا کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی۔ جب کہ اس کا ٹیسٹ پازیٹو ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ جب پہلی بار یہ شخص وائرس سے متاثر ہوا تھا۔ تو اس کے جسم میں وبا کے خلاف مدافعت پیدا ہو گئی تھی جس نے اسے وائرس کے دوسرے حملے میں کچھ تحفظ فراہم کیا ہے۔
اس شخص میں، جس کا نام پوشیدہ رکھا گیا ہے، دوسری بار کرونا وائرس کا انکشاف ہانگ کانگ کے ایئر پورٹ پر اسکرینگ اور ٹیسٹگ کے دوران ہوا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب مریض کے جینیاتی ٹیسٹ لیے گئے تو معلوم ہوا کہ دوسری بار اس پر کرونا وائرس کی دوسری قسم کی نسل کا حملہ ہوا تھا۔
ایک دن میں کرونا کے ہزاروں ٹیسٹ کرنے والا روبوٹ
تائیوان کی ایک بائیو ٹیک کمپنی نے ایسا روبوٹ بنایا ہے جو ایک ہی دن میں کرونا وائرس کے تقریباً دو ہزار ٹیسٹ کر سکتا ہے۔ یہ روبوٹ تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز کو کھولنے کا عمل تیز اور محفوظ بنانے میں کیسے مددگار ثابت ہو سکتا ہے؟ دیکھیے اس رپورٹ میں۔
جنوبی کوریا میں مظاہرے روکنے کے لیے پولیس سرگرم
جنوبی کوریا کے دارالحکومت سول میں 'نیشنل فاؤنڈیشن ڈے' کے موقع پر ہونے والی سیاسی ریلیوں کو روکنے کے لیے پولیس نے بسوں کے ذریعے اہم مقامات کے علاوہ سینٹرل سیول اسکوائر کو بھی بند کر دیا ہے۔
جنوبی کوریا کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب رہنے والے چند ممالک میں سے ایک ہے۔ تاہم ایک گرجا گھر میں ہونے والی مذہبی تقریب اور اگست میں ہونے والی حکومت مخالف ریلی کے بعد 18 سو سے زائد نئے کرونا کیسز سامنے آئے تھے۔
حکومت کی طرف سے کیے گئے اقدامات پر اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے۔
رواں سال اگست میں حکومت مخالف ریلی نکالنے والے گروہ کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات آزادی اظہار پر پابندی لگانے کے مترادف ہے۔
وبائی امراض سے متعلق حکومتی ایجنسی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جمعے کو کرونا وائرس کے مزید 75 کیس سامنے آئے ہیں۔
جنوبی کوریا میں اب تک 24 ہزار سے زائد افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے۔ جب کہ اس وبا سے 420 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد صدر ٹرمپ اسپتال منتقل
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کے بعد انہیں جمعے کی شام اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ وہ اپنے صدارتی فرائض اسپتال سے ہی سر انجام دے رہے ہیں۔
اسپتال سے انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا خیال ہے کہ سب ٹھیک چل رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کے معالج ڈاکٹر شان کون لی نے جمعے کو وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری کاہلی مک نانی کو اپنے ایک میمو میں کہا ہے کہ آج شام میں یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ صدر کی صحت کی صورتِ حال بہت بہتر ہے۔ انہیں کسی اضافی آکسیجن کی ضرورت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپیشلسٹس سے مشاورت کے ساتھ ہم نے انہیں ریمسیوائر تھراپی دی ہے۔ انہوں نے اس کی پہلی خوراک مکمل کر لی ہے۔ وہ پرسکون ہیں اور آرام کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کو جمعے کی سہ پہر ہیلی کاپٹر کے ذریعے وائٹ ہاؤس کے قریب واقع ایک فوجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ مزید کئی روز تک اسپتال میں ہی رہیں گے۔