پاکستان میں کرونا سے سات ہزار اموات
پاکستان میں کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد سات ہزار ہو گئی ہے جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 23 اموات ہوئی ہیں۔
پاکستان میں پیر کو 1637 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ملک میں ایکٹو کیسز کی تعداد 20 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔
پاکستان میں کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد تین لاکھ 46 ہزار سے زائد ہے جس میں سے تین لاکھ 19 ہزار مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
بنگلہ دیش ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان کرونا کا شکار
بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے ٹیسٹ فارمیٹ کے کپتان مومن الحق کرونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں جس کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔
کھیلوں کی خبروں کی معروف ویب سائٹ 'کرک انفو' کے مطابق مومن الحق نے کہا ہے کہ انہیں منگل کو بتایا گیا کہ ان کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ ان کے بقول "مجھ میں کرونا وائرس کی علامات کی شدت زیادہ نہیں ہے لیکن پرسوں سے بخار ہے"
انہوں نے کہا ہے کہ ان کی اہلیہ بھی کرونا کا شکار ہوئی ہیں اور دونوں نے خود کو اپنے گھر میں قرنطینہ کر لیا ہے۔
فلسطین کی نامور سیاسی شخصیت صائب عریقات انتقال کر گئے
فلسطین کی ایک نامور سیاسی شخصیت صائب عريقات کرونا وائرس سے ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث منگل کو انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی جماعت کے ایک سینئر عہدے دار نے ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔
صائب عریقات کی عمر 65 برس تھی۔ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ یہ امن مذاکرات 2014 میں ختم ہو گئے تھے۔
عریقات فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے سیکریٹری جنرل بھی تھے۔
صائب عریقات 8 اکتوبر کو کرونا وائرس کا شکار ہوئے تھے۔ انہوں نے 2017 میں امریکہ میں پھیپھڑوں کی پیوندکاری کرائی تھی جس کی وجہ سے ان کی قوتِ مدافعت کمزور تھی۔
صائب عریقات کو گزشتہ ہفتے یروشلم کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا ہوا تھا۔
امریکی کمپنی فائزر کا 90 فی صد مؤثر کرونا ویکسین بنانے کا دعویٰ
امریکی دوا ساز کمپنی 'فائزر' نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بنائی گئی کرونا وائرس کی تجرباتی ویکسین 90 فی صد سے زائد مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ کمپنی اسے کرونا وبا کے خلاف بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے جس کے باعث اب تک پوری دنیا میں 12 لاکھ 57 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پیر کو فائزر اور اس کی معاون جرمن کمپنی 'بائیو این ٹیک' یہ دعویٰ کرنے والی دنیا کی پہلی دوا ساز کمپنیاں بن گئی ہیں جنہوں نے بڑے پیمانے پر کلینیکل ٹرائل کے بعد اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ٹرائل میں ثابت ہوا کہ ویکسین کے استعمال سے کوئی منفی ردعمل نہیں ہوا جس کے بعد رواں ماہ امریکی حکومت کی منظوری کے بعد اس کی ہنگامی ترسیل شروع کی جا سکتی ہے۔
لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ مذکورہ ویکسین کتنے عرصے تک انسان کو وائرس سے محفوظ رکھے گی جب کہ فوری طور پر اس کی محدود خوارکیں دستیاب ہوں گی۔
ماہرین کے بقول اس خبر سے یہ اُمید بڑھ گئی ہے کہ کرونا سے بچاؤ کے لیے تیار کی جانے والی دیگر ویکسینز کے بھی مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
پیر کو ایک بیان میں 'فائزر' کے چیئرمین البرٹ بورلا نے کہا کہ یہ سائنس اور انسانیت کے لیے عظیم دن ہے۔