امریکہ میں کرونا وائرس کے یومیہ کیسز کا نیا ریکارڈ
امریکہ میں منگل کو مسلسل ساتویں روز کرونا وائرس کے ایک لاکھ سے زائد نئے کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ بدھ کو ایک ہی دن میں یومیہ کیسز کی ریکارڈ تعداد رپورٹ ہوئی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکہ میں کرونا وائرس کے ایک لاکھ 36 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ 1450 اموات ہوئی ہیں۔ اگست کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب امریکہ میں یومیہ اموات کی تعداد 1400 سے تجاوز کر گئی ہے۔
امریکہ میں کرونا کیسز کی مجموعی تعداد ایک کروڑ، دو لاکھ 60 ہزار سے زیادہ ہے جب کہ دو لاکھ 39 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
کرونا ویکسین پر امیر ملکوں کی اجارہ داری تشویش ناک ہے: فواد چوہدری
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی ویکسین پر صرف امیر ملکوں کی اجارہ داری تشویش ناک ہے۔
منگل کو اپنے ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ پانچ امیر ترین ممالک نے کرونا ویکسین کی 50 کروڑ خوراکوں کا آرڈر دیا ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو ویکسین کی فراہمی کے لیے کم از کم دو سال کا عرصہ درکار ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارۂ صحت اور دیگر عالمی اداروں کو اس صورتِ حال کا ادراک کرنا ہو گا۔
نئی دہلی میں اسموگ، کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافے کا خطرہ
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کو گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں رواں سال بدترین فضائی آلودگی کا سامنا ہے جس سے کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
نئی دہلی میں رواں سال کے آغاز میں حکومت کی جانب سے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کے نفاذ سے فضائی آلودگی تقریباً ختم ہو گئی تھی لیکن لاک ڈاؤن کے خاتمے اور پابندیوں میں نرمی کے ساتھ ہی آلودگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
بھارتی حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق دہلی کا 'اے کیو آئی' یعنی ایئر کوالٹی انڈیکس مسلسل پانچ روز سے چار سو سے زیادہ ہے۔
فصلوں کی باقیات جلانے اور گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں کے ذرات ہوا میں شامل ہو کر اسے آلودہ کر دیتے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے ذرات دل اور سانس کی بیماریوں کا موجب بن سکتے ہیں جس سے لامحالہ کرونا مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
بھارتی ڈاکٹروں کی تنظیم انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے اعزازی سیکریٹری جنرل آر وی اشوکن کے مطابق پی ایم 2.5 نامی یہ آلودہ ذرات ناک کے ذریعے سانس کی نالیوں میں داخل ہو کر پھیپھڑوں کو متاثر کرتے ہیں جس سے کرونا وائرس کیسز بڑھ سکتے ہیں۔