کرونا بحران: پاکستان میں ہاسٹلز کا نظام مشکلات کا شکار
اسلام آباد میں سیکڑوں طلبہ اور ملازمت پیشہ افراد کو رہائش فراہم کرنے والے ہاسٹل کرونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند ہو گئے تھے۔ اب لاک ڈاؤن تو نہیں ہے لیکن حالات نہ تو ہاسٹل مالکان کے لیے سازگار ہوئے ہیں اور نہ ہی اسلام آباد میں عارضی رہائش اختیار کرنے والوں کے لیے۔ دیکھیے گیتی آرا انیس کی رپورٹ۔
کئی ماہ کی خاموشی کے بعد ہالی وڈ کی رونقیں بحال ہونے لگیں
اس سال کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے ہالی وڈ میں فلم سازی کے کام کو بری طرح متاثر کیا اور پہلے سے جاری پراجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر کا سامنا رہا جس کی وجہ سے نئی پروڈکشن کے شیڈول پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔
لیکن ایک تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر کے مہینے میں ہالی وڈ کی رونقیں بحال ہوتی ہوئی دکھائی دیں کیوں کہ ٹی وی پر دکھائے جانے والے مزاحیہ ڈراموں، فلموں اور ریئلٹی شوز کے فلمانے کے کام میں نمایاں تیزی آئی ہے۔
پروڈکشن کے ریکارڈ مرتب کرنے والے 'فلم ایل اے' نامی گروپ کے مطابق اکتوبر کے دوران ماہانہ شوٹنگ کی سرگرمیوں میں 24 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ اس ماہ فلم بندی کا کام کرنے کے 1880 اجازت نامے جاری کیے گئے۔
چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار احمد سیٹھ کا کرونا سے انتقال
پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کرونا وائرس کے باعث جمعرات کی رات اسلام آباد کے ایک اسپتال میں انتقال کر گئے۔
پشاور ہائی کورٹ کے ترجمان نے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پچھلے چند دنوں سے اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔
ترجمان کے مطابق وقار احمد سیٹھ چند روز قبل کووڈ-19 میں مبتلا ہوئے تھے اور گزشتہ دو دنوں سے وینٹی لیٹر پر تھے۔
پاکستان میں 22 جولائی کے بعد سب سے زیادہ اموات رپورٹ
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار مزید 37 مریض دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی کل تعداد سات ہزار 92 تک پہنچ گئی ہے۔
پاکستان میں 22 جولائی کو 38 اموات ریکارڈ کی گئی تھیں جس کے بعد اتنی زیادہ اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 36 ہزار 923 ٹیسٹ کیے گئے جب کہ 2304 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق کرونا وائرس کے زیرِ علاج 1219 افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پاکستان میں کرونا کیسز اور اموات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جسے دیکھتے ہوئے حکومت نے شادی ہالوں میں ان ڈور تقریب پر پابندی سمیت متاثرہ علاقوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔