دہلی میں کرونا وبا کی تیسری لہر، ایک دن میں 104 افراد ہلاک
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں کرونا وائرس کی تیسری لہر جاری ہے جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 104 افراد ہلاک اور سات ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
دہلی میں 16 جون کو سب سے زیادہ 93 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی تھیں جس کے بعد پہلی مرتبہ جمعے کو 104 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ رواں ماہ کے ابتدائی 12 روز کے دوران صرف دہلی میں 872 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دہلی میں کرونا وبا سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 7332 ہے جب کہ مریضوں کی مجموعی تعداد چار لاکھ 67 ہزار ہے۔
صفدر جنگ اسپتال سے وابستہ ڈاکٹر سید احمد خاں اور الشفا اسپتال سے وابستہ ڈاکٹر سالک رضا نقوی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دہلی میں کرونا کیسز میں اضافے کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔
ان کے بقول عوام نے کرونا احتیاط ترک کر دی ہے، لوگ تہواروں میں شرکت کر رہے ہیں اور مصروف ترین علاقوں میں ماسک کا استعمال نہیں کر رہے، جب کہ کرونا وبا کے پھیلنے کی دوسری وجہ دہلی میں فضائی آلودگی میں اضافہ ہے۔
کیلی فورنیا 10 لاکھ کرونا کیسز کی دوسری امریکی ریاست بن گئی
کیلی فورنیا میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور وہ امریکہ کی دوسری ایسی ریاست بن گئی ہے جہاں کرونا کے کیسز کی تعداد 10 لاکھ کا ہندسہ عبور کر گئی ہے۔
رواں ہفتے کے آغاز پر ٹیکساس کرونا کے 10 لاکھ سے زیادہ کیس رپورٹ کرنے والی امریکہ کی پہلی ریاست بن گئی تھی۔
جمعرات کو کیلی فورنیا میں کرونا کے مزید سات ہزار کیسز رپورٹ ہوئے۔ گزشتہ سات دن سے ریاست میں کرونا ٹیسٹ کے مثبت آنے کی شرح 5 فی صد ہے۔
صرف ایک ہفتہ قبل تک ریاست میں کرونا کے روزانہ رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد تین ہزار سے کم تھی اور ٹیسٹ کے مثبت آنے کی شرح بھی صرف ڈھائی فی صد تھی۔
کیلی فورنیا امریکہ کی گنجان ترین ریاست ہے جس کی آبادی چار کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ ریاست میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کرونا کے مریضوں کے اسپتال میں داخلے کی شرح میں بھی 30 فی صد اضافہ ہوا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ موسم سرد ہونے کے باعث لوگوں نے اپنی ملاقاتیں اور تقریبات کھلی فضا کی بجائے چار دیواری میں کرنا شروع کر دیں ہیں جو کیسز بڑھنے کی بڑی وجہ ہے۔
کرونا کیسز میں اضافہ، لاہور میں اسمارٹ لاک ڈاؤن
پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے بعد 11 مقامات کو ہاٹ اسپاٹ قرار دے کر سیل کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر شدت اختیار کر رہی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ پہلے سے زیادہ کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
رکنِ سندھ اسمبلی جام مدد علی خان انتقال کر گئے
پیپلز پارٹی کے رکنِ سندھ اسمبلی جام مدد علی خان کرونا وائرس سے ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔
جام مدد علی کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد کئی ہفتوں سے کراچی کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھے۔ وہ کرونا سے تو صحت یاب ہو گئے تھے لیکن وائرس نے ان کے پھیپھڑوں کو شدید متاثر کیا تھا۔
جام مدد علی کے انتقال پر سندھ کی سیاسی و سماجی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جام مدد علی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے پیپلز پارٹی کا بڑا نقصان قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان میں کئی سیاست دانوں اور اراکینِ اسمبلی کا کرونا وائرس سے انتقال ہو چکا ہے۔