اسپین کے بادشاہ نے خود کو قرنطینہ کر لیا
اسپین کے بادشاہ فلیپ ششم کے قریبی ساتھی کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔
بادشاہ کے محل کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جس ساتھی کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے وہ بادشاہ سے رابطے میں تھا جس کے بعد 52 سالہ کنگ فلیپ ششم نے خود کو سب سے الگ تھلگ کر لیا ہے۔
بیان کے مطابق بادشاہ کی اگلے 10 روز تک تمام سرکاری سرگرمیاں معطل رہیں گی۔ تاہم ملکہ لیٹیزا اور ان کی بیٹیاں لیونور اور صوفیہ معمول کے مطابق اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گی۔
یاد رہے کہ اسپین میں 15 لاکھ 82 ہزار سے زیادہ کیسز اور 43 ہزار سے زیادہ اموات رپورٹ ہو چکی ہیں اور وہ عالمی وبا سے متاثرہ ملکوں کی فہرست میں شامل ابتدائی دس ملکوں میں شامل ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کا کرونا ویکسین کی مساوی تقسیم پر زور
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بین الاقوامی برادری سے کرونا ویکسین کی عالمی سطح پر اسی طرح برابری کی سطح پر فراہمی کی درخواست کی ہے جس طرح اس کی تیاری کے لیے کوشش کی گئی ہے۔
جینیوا میں پریس بریفنگ میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہنم گیبراسس نے امریکہ اور جرمنی کی دوا ساز کمپنیوں فائزر اور بائیو این ٹیک کی مشترکہ کوششوں سے حالیہ تیار کردہ ویکسین کی تعریف کی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ سائنسی کامیابی کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا کہنا تھا کہ تاریخ میں کوئی بھی ویکسین اس قدر جلدی تیار نہیں ہوئی جتنی جلد کرونا کی ویکسین کو تیار کیا گیا ہے۔ ان کے بقول سائنسی برادری نے ویکسین کی تیاری کے لیے ایک نیا معیار متعین کر دیا ہے۔
کیا آپ کرونا وبا کی وجہ سے ذہنی تھکاوٹ کا شکار ہیں؟
کرونا کی عالمی وبا کی غیر یقینی صورتِ حال اور فکر کے ماحول سے اگر آپ اکتا گئے ہیں تو آپ تنہا نہیں ہیں۔ یہی اکتاہٹ ہمیں وائرس سے لاحق خطرات سے لاپرواہ بھی کر رہی ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم کسی صورت کرونا وائرس کے خلاف لاپرواہی کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔
مسافروں کو سفر سے پہلے کرونا ویکسین لینے کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا: قنطاس
آسٹریلیا کی فضائی کمپنی قنطاس کا کہنا ہے کہ اس کے جہازوں میں سفر کرنے والے بین الاقوامی مسافروں کو جہاز پر سوار ہونے سے قبل یہ ثبوت فراہم کرنا ہو گا کہ وہ کرونا وائرس کی ویکسین لے چکے ہیں۔
قنطاس کے چیف ایگزیکٹو ایلن جوئس نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کے خیال میں مستقبل میں سفر کرنے والے بین الاقوامی مسافروں کے لیے ویکسین لینے کا ثبوت فراہم کرنا ضروری ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اندرونِ ملک سفر کرنے والوں کے لیے بھی ایسا کرنا ضروری ہو گا یا نہیں۔
ایلن جوئس کا کہنا ہے کہ وہ دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں کے اہلکاروں سے مشاورت کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ویکسین لینے کا ثبوت فراہم کرنا مستقبل میں معمول کی بات ہو گی۔
خدشہ ہے کہ اس اقدام کی مخالفت کرنے والوں کی طرف سے فضائی کمپنی کو مقدمات کا سامنا ہو سکتا ہے۔