کرونا وائرس کی پہلی تین ویکسین، کتنی مختلف اور کتنی مؤثر ہیں
کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے تیسرے مرحلے کے انسانی تجربات کے بعد اب تک تین مؤثر ویکسینز سامنے آ چکی ہیں، جس سے یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ اب جلد ہی اس موذی مرض کے پھیلاؤ پر قابو پا لیا جائے گا۔
ان ویکسینز کے متعلق اب تک جتنی بھی معلومات سامنے آئی ہیں، وہ اُنہیں بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے ہی جاری کی گئی ہیں جب کہ ان کے مکمل نتائج کی تفصیلات اب تک منظرِ عام پر نہیں آئیں۔
یہ ویکسینز دوا ساز کمپنیوں ایسٹرازینیکا، موڈرنا اور تیسری ویکسن فائزر اور بائیو این ٹیک نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔
کرونا لاک ڈاؤن کے باوجود گرین ہاؤس گیسوں اور گلوبل وارمنگ میں اضافہ جاری
موسمیات سے متعلق عالمی تنظیم ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں کیے جانے والے لاک ڈاؤنز کے باوجود زمین کے کرۂ ہوائی میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کوئی کمی نہیں ہوئی اور یہ اخراج اپنی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا ہے۔
یہ انکشاف تنظیم نے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کے حجم سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ میں کیا ہے۔
کرونا وائرس کی عالمی وبا سے منسلک لاک ڈاؤن کی وجہ سے بھارت، چین اور دیگر کئی ممالک کے بڑے شہروں میں ماحولیاتی آلودگی میں کچھ کمی ہوئی ہے۔ تاہم عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود گرین ہاؤس گیسوں کے مسلسل اخراج میں کمی نہیں ہوئی جس سے کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافہ جاری ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے برف کے تیزی سے پگھلنے، سمندروں میں پانی کی سطح بلند ہونے اور شدید موسمی تغیرات جیسے واقعات تواتر سے رونما ہو رہے ہیں۔
کرونا وائرس کی ممکنہ ویکسین کتنی مؤثر اور مفید ہے؟
ادویہ ساز کمپنیوں کی جانب سے کرونا وائرس کی ویکسینز کے 90 فی صد سے زیادہ مؤثر ہونے کا دعویٰ لوگوں میں امید تو پیدا کر رہا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ سائنٹیفک کمیونٹی کی جانب سے ڈیٹا کے تجزیے کے بغیر یہ محض کسی کمپنی کے اپنی پروڈکٹ کے بارے میں بلند و بانگ دعوؤں سے کم نہیں۔ صبا شاہ خان کی رپورٹ۔
پاکستان میں قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، ان ڈور ڈائننگ پر پابندی
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کرونا وبا کی روک تھام کے لیے مزید فیصلے کیے گئے ہیں۔
اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ریستورانوں میں ان ڈور ڈائننگ پر پابندی ہو گی۔ تاہم اوپن ایئر سروس کی اجازت ہو گی۔
قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں تعلیمی اداروں کی بندش اور اجتماعات پر پابندی کی بھی منظوری دی گئی۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی دوسری لہر پہلی لہر کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر احتیاط نہ کی گئی تو آئندہ دو ہفتوں میں ملک میں جون جیسے حالات ہو سکتے ہیں۔