بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں رات کا کرفیو لگانے پر غور
دہلی کے وزیر اعلٰی اروند کیجریوال نے دارالحکومت نئی دہلی میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے رات کا کرفیو لگانے کا عندیہ دیا ہے۔
جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ میں کرونا سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اُنہوں نے بتایا کہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے دیگر اقدامات کی طرح رات کا کرفیو لگانے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔
نئی دہلی میں گزشتہ ہفتے روزانہ رپورٹ ہونے والے کیسز اوسطً پانچ ہزار سے تجاوز کر گئے تھے جو ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ شرح ہے۔
جمعرات کو نئی دہلی میں 5475 کیس رپورٹ ہوئے جب کہ 91 افراد وائرس سے ہلاک ہوئے۔ دہلی میں مجموعی طور پر وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 8811 ہو گئی ہے۔
جنوبی کوریا میں بغیر علامات کے کرونا کیسز میں اضافہ
جنوبی کوریا میں علامات ظاہر نہ ہونے سے کرونا وائرس کی تشخیص میں مشکلات کا سامنا ہے اور وائرس کے خاموشی سے پھیلاؤ سے کیسز بڑھ رہے ہیں۔
جنوبی کوریا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 524 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کو وائرس کی تیسری لہر کا سامنا ہے۔
جنوبی کوریا کے حکام کے مطابق نوجوانوں میں بھی وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، جب کہ بغیر علامات کے کیسز رپورٹ ہونے کی شرح 40 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جو جون میں 20 سے 30 فی صد کے درمیان تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ سرد موسم کے باعث کیسز مزید بڑھ رہے ہیں۔ کیوں کہ لوگ بند مقامات پر بیٹھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
جنوبی کوریا میں مجموعی طور پر کرونا کے 32 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہو چکے ہیں، جب کہ مہلک وائرس سے 500 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
تھائی لینڈ کا ویکسین کی خریداری کے لیے معاہدہ
تھائی لینڈ نے برطانوی دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا کی کرونا ویکسین خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔
تھائی لینڈ کے قومی ویکسین انسٹی ٹیوٹ نے آسٹرا زینیکا کے ساتھ جمعے کو معاہدہ کیا ہے جس کے تحت دو کروڑ 60 لاکھ خوراکیں 2021 کے وسط تک فراہم کی جا سکتی ہیں۔
ویکسین کی یہ خوراکیں تقریباً سات کروڑ آبادی والے ملک کی ایک کروڑ 30 لاکھ آبادی کے لیے کافی ہوں گی۔ معاہدے کی مالیت سات کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہے۔
اس معاہدے کے علاوہ وزارتِ صحت کے ڈیزیز کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے بھی ایک معاہدہ کیا ہے جس کی مالیت ایک ارب 21 کروڑ ڈالر ہے اور اسے 'اے زیڈ ڈی 1222' کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔
ایسٹرازینیکا کی کرونا ویکسین کے مؤثر ہونے پر سوالات
برطانوی دواز ساز کمپنی ایسٹرازینیکا کی کرونا ویکسین کی کامیابی کی شرح پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ اور یورپی ریگولیٹرز سے ویکسین کی منظوری میں رکاوٹیں کھڑی ہو سکتی ہیں۔
متعدد سائنس دانوں نے آسٹرازینیکا کی ویکسین کے نتائج پر خدشات کا اظہار کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ تجربات کے دوران ابتدائی طور پر اس میں بعض خامیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔
لندن کے ایمپیریل کالج کے پروفیسر پیٹر اوپنشا کا کہنا ہے کہ ہمیں ویکسین کے تجربات کو مکمل ڈیٹا کا انتظار کرنا چاہیے اور یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ریگولیٹر ان نتائج سے متعلق کیا کہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور یورپ کے ڈرگ ریگولیٹرز کا نکتۂ نظر ممکنہ طور پر اس ویکسین سے متعلق مختلف ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ایسٹرازینیکا نے پیر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ آکسفورڈ یونیوسٹی کے اشتراک سے بنائی گئی ویکسین کے برطانیہ اور برازیل میں آخری تجربات کیے گئے جس کے نتائج 90 فی صد تک درست پائے گئے۔