کرونا کے خلاف اپنا مدافعتی نظام مضبوط کیسے بنائیں؟
کرونا وائرس کے خلاف لڑائی میں صحت مند رہنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہی پہلا اور ضروری قدم ہے۔ ماہرین کے مطابق مضبوط اعصاب اور مثبت سوچ بھی صحت مند رہنے میں ہماری مدد کرتی ہے اور اس کے لیے اچھی خوراک اور مناسب نیند بہت ضروری ہے۔
چین میں مزید 12 کیسز رپورٹ
چین میں کرونا وائرس کے مزید 12 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 92 ہزار 900 سے تجاوز کر گئی ہے۔
چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے گزشتہ روز سامنے آنے والے کیسز کی تعداد ایک روز قبل رپورٹ کیے گئے کیسز سے کم ہے۔
کمیشن کے مطابق سامنے آنے والے 12 نئے کیسز میں سے 8 بیرونِ ملک سے منتقل ہوئے۔ جب کہ 4 کیسز مقامی طور پر وائرس منتقل ہونے کے ہیں جو کہ منگولیا میں رپورٹ ہوئے۔
امریکہ کی 'جان ہاپکنز یونیورسٹی' کے اعداد و شمار کے مطابق چین میں کرونا وائرس کے 92 ہزار 902 کیسز سامنے آئے ہیں۔ جب کہ وبا سے اب تک 4ہزار 743 اموات ہو چکی ہیں۔
پاکستان میں نومبر میں 992 اموات
پاکستان میں نومبر میں کرونا وائرس سے 992 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں وبا سے مزید 67 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 8091 ہو گئی ہے۔
نومبر میں پاکستان میں کرونا وائرس سے اموات کی شرح میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔
حکومت مسلسل شہریوں کو احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد پر زور دے رہی ہے۔ جب کہ کئی علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن بھی دوبارہ لگائے جا رہے ہیں۔
دنیا بھر میں امداد کے منتظر لوگوں کی تعداد میں 40 فی صد اضافہ
اقوامِ متحدہ کے مطابق کرونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں انسانی بنیادوں پر مدد کے منتظر افراد میں 40 فی صد اضافہ ہوا ہے۔
ان افراد میں سے بیشتر کی مدد کے لیے اقوامِ متحدہ نے 35 ارب ڈالرز کی مدد کی اپیل کی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے امدادی پروگرام (یو این ایڈ) کے سربراہ مارک لوکوک کا کہنا تھا کہ آئیندہ برس تک دنیا بھر میں مدد کے منتظر افراد کو اگر ایک جگہ جمع کر دیا جائے تو یہ عالمی سطح پر پانچویں بڑی قوم ہو گی۔
ان کے بقول کرونا وائرس نے کمزور ممالک کو زیادہ متاثر کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ نے 2021 تک 56 ممالک میں بھوک کے شکار ممکنہ طور پر 23 کروڑ لوگوں کی مدد کے لیے 34 مختلف امدادی پروگرام شروع کیے ہیں۔
مارک لوکوک کا کہنا تھا کہ رواں برس عطیات دینے والوں نے رکارڈ 17 ارب ڈالرز امدادی سرگرمیوں کے لیے دیے ہیں۔ اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ 70 فی صد امداد ان لوگوں تک پہنچ چکی ہے جن کی نشاندہی کی گئی تھی۔