برطانیہ نے کرونا ویکسین کے ہنگامی استعمال کی اجازت دے دی
امریکہ اور جرمنی کی دوا ساز کمپنیوں نے کہا ہے کہ برطانیہ نے ان کی تیار کردہ کرونا ویکسین کی ہنگامی بنیاد پر استعمال کی اجازت دے دی ہے۔
امریکی کمپنی فائزر اور جرمن دوا ساز کمپنی بائیو این ٹیک کی تیار کردہ ویکسین پہلی ویکسین ہے جسے استعمال کی منظوری کسی ملک نے دی ہے۔
برطانوی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ انگلینڈ کے اسپتالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ ہفتے سے کرونا ویکسینیشن کے لیے اپنے عملے کو تیار رکھیں۔
فائزر کے سی ای او البرٹ بورلا نے برطانیہ کے فیصلے کو تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اعلیٰ کوالٹی کی ویکسین دنیا بھر میں سپلائی کے لیے پرعزم ہیں۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کی رپورٹ کے مطابق برطانوی ریگولیٹر ایسٹرازینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے اشتراک سے بننے والی ویکسین کی منظوری پر بھی غور کر رہے ہیں۔
فائزر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ برطانیہ کو فوری طور پر ویکسین کی محدود سپلائی شروع کر دے گی اور اگر امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے بھی ویکسین کی منظودی دی تو بڑے پیمانے پر سپلائی شروع کر دی جائے گی۔
کرونا ویکسین کی خریداری اوپن پالیسی پر ہو گی: ڈاکٹر عطاالرحمن
پاکستان میں وزیرِ اعظم عمران خان کی ٹاسک فورس برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے سربراہ ڈاکٹر عطا الرحمن کا کہنا ہے کہ کرونا ویکسین کی خریداری کے لیے پاکستان کی اوپن پالیسی ہے۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عطاالرحمن نے کہا کہ ویکسین کی خریداری کے لیے فنڈز مسئلہ نہیں۔ ہم ایسی ویکسین خریدنا چاہتے ہیں جو مؤثر ہو اور وائرس کا پھیلاؤ روک سکے۔
ڈاکٹر عطاالرحمن کا کہنا تھا کہ ابھی ویکسینز کے ٹرائل جاری ہیں اور امکان یہ ہے کہ یہ ویکسین پاکستان میں آئندہ سال ستمبر تک ہی آ سکے گی۔
حکومتِ پاکستان نے عالمی اداروں سے کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین خریدنے کی منظوری دی ہے اور اس کے لیے 100 ملین مختص کیے ہیں۔
پاکستان: دس جولائی کے بعد ریکارڈ اموات
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار مزید 75 مریض دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 8166 تک پہنچ گئی ہے۔
پاکستان میں آخری مرتبہ دس جولائی کو 75 مریضوں کی ہلاکت رپورٹ ہوئی تھی جس کے بعد بدھ کو ایک مرتبہ پھر اتنی زیادہ اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز 35 ہزار 197 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 2829 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
پاکستان میں اب تک کرونا کے چار لاکھ تین ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ تین لاکھ 45 ہزار سے زیادہ مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں کرونا کے زیرِ علاج 2244 مریضوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
کرونا وائرس کی ابتدا کیسے ہوئی، اس راز سے پردہ کب اٹھے گا؟
دنیا کے کئی ممالک کے سائنس دان کرونا وائرس کا پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ویکسین تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ جب کہ محققین اس راز سے پردہ اٹھانے کی کوششںیں بھی کر رہے ہیں کہ کرونا وائرس بالآخر کہاں سے آیا؟ جو بلا شبہ یہ اب بھی سب سے بڑا راز ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے وائرس سے متعلق آگاہی کے لیے 10 سائنس دانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم تشکیل دی ہے۔ یہ ٹیم اس بارے میں تحقیق کرے گی کہ کرونا وائرس کا پہلا مریض کس طرح وبا سے متاثر ہوا۔ ٹیم اس حوالے سے ان جانوروں پر بھی تحقیق کرے گی جن کے متعلق یہ شبہ ہے کہ کرونا وائرس ان کی وجہ سے پھیلا۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ وائرس کی حقیقت جاننا ضروری ہے۔ اس سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔
کرونا وائرس کا پہلا کیس چین کے وسطی شہر ووہان میں ایک برس قبل سامنے آیا تھا جس کے بعد یہ وبا دنیا دوسرے ممالک تک پھیلنا شروع ہوئی اور اب تقریباََ ہر خطہ اس سے متاثر ہے۔