جرائم پیشہ عناصر کرونا کی جعلی ویکسین تیار کر سکتے ہیں: انٹرپول کا انتباہ
جرائم کی روک تھام کے لیے سرگرم انٹرنیشنل پولیس 'انٹرپول' ںے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر منظم جرائم کے گروہ کرونا کی جعلی ویکسین فروخت کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
بدھ کو فرانس میں انٹرپول کے ہیڈکوارٹر سے جاری کردہ بیان کے مطابق تمام 194 رُکن ممالک کو اس خطرے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
انٹرپول کا کہنا ہے کہ منظم گروہ جعلی ویکسین کی آن لائن فروخت کی بھی کوشش کر سکتے ہیں۔
انٹرپول کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب مختلف ممالک کرونا ویکسین کی ترسیل شروع کرنے والے ہیں، ایسے میں جرائم پیشہ گروہ بھی سپلائی چین میں خلل ڈالنے کے علاوہ ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر جعلی ویکسین کی تشہیر کر سکتے ہیں۔
انٹرپول کا کہنا ہے کہ ان جرائم پیشہ افراد کے مذموم مقاصد سے لوگوں کی صحت پر مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکہ میں ویکسین کی ترسیل کی تمام تیاریاں مکمل
امریکہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام نے کہا ہے کہ ملک بھر میں کرونا ویکسین کی بحفاظت اور فوری ترسیل کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
منگل کو محکمے کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ایجنسیز نجی شعبے کے اشتراک سے ویکسین کی خوراکیں، تیاری کے مقامات سے ڈسٹری بیوشن پوائنٹس تک پہنچائیں گی۔
محکمے کا کہنا ہے کہ ویکسین کی ترسیل کے دوران درجۂ حرارت کو برقرار رکھنے اور ویکسین کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے خشک آئس اور لیتھیم بیٹریز کا استعمال کیا جائے گا۔
محکمے کا کہنا ہے کہ جنوری تک چار کروڑ امریکیوں تک ویکسین کی خوارکیں پہنچائیں جائیں گی جب کہ ہر ماہ دو کروڑ افراد تک ویکیسن پہنچائی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے ہیلتھ کیئر ورکرز اور بزرگ افراد کو ویکسین لگائی جائے گی۔
خیال رہے کہ امریکی دوا ساز کمپنی 'فائزر' نے ویکسین کی منظوری کے لیے امریکہ کے فوڈ اینڈ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے رجوع کر رکھا ہے۔
بھارت میں ہر فرد کو ویکسین دینے کی ضرورت نہیں: حکام
انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے ڈائریکٹر جنرل بلرام بھارگو نے کہا ہے کہ اگر بھارت کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے اپنی ایک ارب 30 کروڑ آبادی کو ویکسین دینے کی ضرورت نہیں۔
بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں ویکسین بنانے والی تین کمپنیوں کے تفصیلی جائزے کے بعد ویکسین کی اہمیت پر زور دیا تھا جب کہ اکتوبر میں انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت جیسے ہی ویکسین تیار کرتی ہے، ہر شہری تک اس کی رسائی ممکن بنا دی جائے گی۔
بھارت کی وزارتِ صحت کے سرِ فہرست بیوروکریٹ راجیش بھوشن نے بھی منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ بھارت کی تمام آبادی کو ویکسین دینا ہو گا۔
عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین نے عندیہ دیا تھا کہ 65 سے 70 فی صد تک ویکسین بھارت کی پوری آبادی کے لیے کافی ہو گی۔
یاد رہے کہ بھارت کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد کے لحاظ سے امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں کرونا وائرس سے 94 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
امریکہ میں سیلف آئسولیشن کا دورانیہ کم کرنے کا فیصلہ
امریکہ میں صحتِ عامہ کے نگران ادارے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) نے کرونا سے متاثرہ شخص سے میل جول رکھنے والے شخص کے لیے قرنطینہ کی مدت میں کمی کی سفارش کر دی ہے۔
سی ڈی سی کے مطابق اب ایسا شخص 14 روز کے بجائے سات سے 10 روز تک خود کو قرنطینہ کرنے کا پابند ہو گا۔
امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' کے مطابق نئی گائیڈ لائنز کی سفارش 'سی ڈی سی' کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رابرٹ ریڈ فیلڈ نے منگل کو کرونا وائرس ٹاسک فورس کے اجلاس کے دوران کی۔
ایک سینئر اہلکار نے خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ' پریس کو بتایا کہ قرنطینہ کے دورانیے میں کمی کی گائیڈ لائنز پر کئی روز سے کام جاری تھا جس کا مقصد وائرس سے متاثرہ شخص سے رابطے میں آنے والے افراد کو جلد معمولاتِ زندگی بحال کرنے کی اجازت دینا ہے۔