عام لوگوں تک کرونا ویکسین پہنچانا کتنا مشکل ہو گا؟
کرونا وائرس کی ویکسین کی عام لوگوں تک رسائی کتنی مشکل ہو گی؟ کیا ویکسین آنے کے بعد بھی ٹیسٹنگ کی ضرورت ہو گی؟ اور کیا کرونا وائرس کی ویکسین کچھ لوگوں کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے؟ جانیے یہ سب اور بہت کچھ وائس آف امریکہ کے 'آئن لائن کلینک' کی چوتھی قسط میں۔
وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم کرونا سے متاثر
پاکستان کی وزارتِ قانون کے ترجمان نے کہا ہے کہ وفاقی وزیرِ قانون بیرسٹر فروغ نسیم کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا۔
بیان میں وزیرِ قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ وہ وبا کی معمولی علامات محسوس کر رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ کراچی میں اپنے گھر سے سرکاری امور کی انجام دہی جاری رکھیں گے۔
پاکستان میں پانچ ماہ بعد یومیہ ساڑھے تین ہزار کیسز رپورٹ
پاکستان میں وبا کے پھیلاؤ میں ایک بار پھر تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے اور پانچ ماہ بعد یومیہ ساڑھے تین ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3499 افراد کے وبا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد زیرِ علاج افراد کی تعداد 51 ہزار 654 ہو گئی ہے۔
پاکستان میں وبا سے لگ بھگ چار لاکھ سات ہزار افراد متاثر ہوئے تھے جن میں سے تین لاکھ 47 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں جب کہ 8205 اموات ہوئی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق زیرِ علاج 51 ہزار 654 افراد میں سے 2469 افراد انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
جرائم پیشہ عناصر کرونا کی جعلی ویکسین تیار کر سکتے ہیں: انٹرپول کا انتباہ
جرائم کی روک تھام کے لیے سرگرم انٹرنیشنل پولیس 'انٹرپول' ںے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر منظم جرائم کے گروہ کرونا کی جعلی ویکسین فروخت کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
بدھ کو فرانس میں انٹرپول کے ہیڈکوارٹر سے جاری کردہ بیان کے مطابق تمام 194 رُکن ممالک کو اس خطرے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
انٹرپول کا کہنا ہے کہ منظم گروہ جعلی ویکسین کی آن لائن فروخت کی بھی کوشش کر سکتے ہیں۔
انٹرپول کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب مختلف ممالک کرونا ویکسین کی ترسیل شروع کرنے والے ہیں، ایسے میں جرائم پیشہ گروہ بھی سپلائی چین میں خلل ڈالنے کے علاوہ ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر جعلی ویکسین کی تشہیر کر سکتے ہیں۔
انٹرپول کا کہنا ہے کہ ان جرائم پیشہ افراد کے مذموم مقاصد سے لوگوں کی صحت پر مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔