پاکستان میں 3308 نئے کیس رپورٹ، مزید 58 اموات
پاکستان میں 24 گھنٹوں کے دوران مزید 3307 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد پاکستان میں اس عالمی وبا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد چار لاکھ 16 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 58 افراد اس مہلک وائرس کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔
پاکستان میں اب تک اس وبا سے آٹھ ہزار 361 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں اس مرض سے تین لاکھ 55 ہزار سے زائد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
چوبیس گھنٹوں کے دوران پاکستان میں 41 ہزار سے زائد کرونا ٹیسٹ کیے گئے جب کہ مجموعی طور پر اب تک 57 لاکھ سے زائد کرونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
ایران میں اموات 50 ہزار سے متجاوز
ایران میں کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں جزوی لاک ڈاؤن وبا کے پھیلاؤ کو روکنے میں فائدہ مند تو ثابت ہوئے۔ تاہم اس اقدام سے ہلاکتوں میں کمی نہ ہو سکی۔
صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ اگر لوگوں نے محکمۂ صحت کے احکامات پر عمل نہ کیا تو لاک ڈاؤن دیگر شہروں تک پھیلایا جا سکتا ہے۔
محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 12 ہزار سے زائد افراد کے وبا سے متاثر ہونے کی تشخیص ہوئی جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
امریکہ کی 'جان ہاپکنز یونیورسٹی' کے اعداد و شمار کے مطابق ایران میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے مزید 347 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی اموات 50016 ہو گئی ہیں۔
پرتگال میں کرسمس سیزن میں پابندیوں میں توسیع
یورپ کے ملک پرتگال میں کرسمس کے موقع پر ہونے والی چھٹیوں کے پیش نظر کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ کردہ ہنگامی حالات میں مزید 15 دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔
پرتگال میں اب پابندیاں رواں ماہ 23 دسمبر تک برقرار رہیں گی۔
پرتگال کی پارلیمنٹ پابندیوں میں صرف 15 دن کی توسیع کر سکتی ہے۔ تاہم صدر مارسیلو ریبیلو ڈی سوسا نے فیصلے میں پابندیوں کو اگلے سال 7 جنوری تک نافذ کرنے سے متعلق واضح کیا ہے۔
کرونا وائرس کے سبب ملک کے اکثریتی علاقوں میں لگائی گئی ایمرجنسی میں رات کے اوقات میں کرفیو اور ہفتے کے آخری دنوں میں نصف دن کا لاک ڈاؤن شامل ہے۔
پنجاب میں دو ہزار مقامات پر اسمارٹ لاک ڈاؤن
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ حکومت عوام کو کرونا سے بچانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
لاہور میں صحافیوں سے گفتگو میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ جو احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی کرے گا۔ اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔
عثمان بزدار کا مزید کہنا تھا کہ احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو کرونا کو پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
وزیر اعلیٰ کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ محکمۂ صحت کو ایک ارب سے زائد کا بجٹ فراہم کیا گیا ہے۔
ان کے بقول لاہور میں کرونا کیسز کی شرح 10 فی صد سے بڑھ گئی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ لاہور میں 625 مقامات پر اور پنجاب میں دو ہزار سے زائد مقامات پر اسمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے۔