اسپین کے چار شیروں میں کرونا کی تشخیص
یورپی ملک اسپین میں انسانوں کے بعد اب شیروں میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
بارسلونا کے چڑیا گھر کے چار شیروں کا کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ متاثرہ شیروں میں ایک نر اور تین مادائیں شامل ہیں۔
کرونا کے شکار نر شیر کی عمر چار سال جب کہ ماداؤں کی عمریں 16، 16 سال بتائی جاتی ہیں۔
چڑیا گھر کے حکام کا کہنا ہے کہ چاروں شیروں کا چڑیا گھر کے دیگر جانوروں سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور ان میں کرونا وائرس کی معمولی علامات ظاہر ہونے پر ان کا ٹیسٹ کرایا گیا تھا۔
حکام یہ پتا لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ شیروں میں کرونا وائرس کس طرح پھیلا جب کہ عمومی رائے یہ ہے کہ شیروں میں کرونا وائرس سے متاثرہ چڑیا گھر کے عملے سے رابطے کے نتیجے میں وائرس پھیلا ہو گا۔
شیروں کے ساتھ ساتھ چڑیا گھر کے عملے کے دو افراد میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے تاہم حتمی نتیجے کے لیے متاثرہ شیروں کا انسانوں کی طرز پر پی سی آر ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔
جانوروں کے علاج پر مامور حکام کے مطابق یہ دوسرا موقع ہے جب اسپین میں بلی کی نسلی سے تعلق رکھنے والے بڑے جانوروں میں کرونا وائرس کی موجودگی کا علم ہوا ہے۔
بارسلونا سے قبل رواں برس اپریل میں نیویارک کے چڑیا گھر برونیکس زو میں چار ٹائیگرز اور تین ببر شیر کرونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
امریکہ: ویکسین کی 100 ملین خوراکوں کی جلد فراہمی متوقع
امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی منظوری حاصل ہوتے ہی فائزر کمپنی کی تیار کردہ کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی 100 ملین خوراکوں کی فراہمی شروع ہو جائے گی جب کہ مزید خوراکوں کی فراہمی کے معاہدے کی کوششیں جاری ہیں۔
گزشتہ موسمِ گرما میں ٹرمپ انتظامیہ فائزر نامی کمپنی کی تیار کردہ کرونا وائرس ویکسین کی اضافی خوراکیں لینے کا معاہدہ نہیں کر سکی تھی۔
ماہرین کے مطابق یہ وہ فیصلہ تھا جس کے اثرات اب نظر آ رہے ہیں، کیوں کہ اب امریکہ کو ویکسین کی دوسری کھیپ کے لیے اس وقت تک انتظار کرنا پڑے گا جب تک فائزر دوسرے ملکوں سے کیے گئے معاہدوں کے تحت اُنہیں ویکسین فراہم نہیں کر لیتی۔
توقع ہے کہ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن، فائزر ویکسین کی توثیق اس ہفتے ہی کر دے گی جس کے بعد دس کروڑ خوراکیں امریکہ کے حوالے کی جائیں گی۔ جو پانچ کروڑ امریکیوں کے لیے کافی ہوں گی۔
فائزر سے ہونے والے سمجھوتے کی مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے کہا تھا کہ وہ دس کروڑ خوراکیں خریدے گی اور اس کے ساتھ یہ آپشن بھی تھا کہ وہ پانچ گنا مزید خوراکیں بھی خرید سکے گی۔
امریکہ: کرونا کی سرکاری ایپ سے لوگ خوفزدہ
امریکہ میں سرکاری سطح پر لوگوں کو خبردار رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ جہاں سرکاری اپیس خطرے کو سمجھنے میں مدد دے رہی ہیں وہیں اپنی شناخت محفوظ رکھنے کے خواہش مند انہیں استعمال کرنے سے کترا رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ جانیے سعدیہ زیب رانجھا کی رپورٹ میں۔
بائیڈن کی ترجیحات میں 10 کروڑ ویکسین اور اسکول کھولنا شامل
امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائیڈن نے کرونا وائرس کے انسداد کے لیے عہدہ سنبھالنے کے ابتدائی 100 روز کے دوران کیے جانے والے اقدامات کا عہد کیا ہے۔
منگل کو ماہرینِ صحت پر مشتمل اپنی ٹیم کا تعارف کراتے ہوئے بائیڈن نے کہا کہ وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد ابتدائی 100 روز کے دوران ملک بھر میں رضاکارانہ طور پر ماسک پہننے کی آگاہی، دس کروڑ ویکسین لگانے اور ملک کے بیشتر اسکولوں کو کھولنے کا عہد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی وبا تمام امریکیوں کے لیے اجتماعی تکلیف ہے اور اس پر قابو پانے اور شہریوں کی زندگی بچانے کے لیے ہم اجتماعی فیصلے کریں گے۔
بائیڈن کے بقول، "صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ویکسینیشن منصوبے میں میری ٹیم نے بعض خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔"
انہوں نے کانگریس سے مطالبہ کیا کہ وہ آئندہ برس ویکسین کی فراہمی کے لیے مالی معاونت سے متعلق قانون سازی کریں تاکہ ویکسین کو لیبارٹری سے مریض تک فوری طور پر پہنچایا جائے۔
یاد رہے کہ امریکہ میں گزشتہ چند روز کے دوران اوسطاً دو لاکھ کیسز اور 2200 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
عالمی وبا سے امریکہ میں اب تک ڈیڑھ کروڑ افراد متاثر اور دو لاکھ 86 ہزار سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔