پاکستان میں زیرِ علاج افراد کی تعداد 45 ہزار سے متجاوز
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے زیرِ علاج افراد کی تعداد 45 ہزار 124 ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے مزید 2729 افراد متاثر ہوئے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 35 ہزار ہو گئی ہے۔ جن میں سے 3 لاکھ 81 ہزار صحت یاب ہو چکے ہیں۔
وبا سے متاثرہ 8724 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اب بھی 45 ہزار 124 افراد زیرِ علاج ہیں جن میں سے 2470 افراد انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے متاثرہ افراد کی نشان دہی کے لیے لگ بھگ ساڑھے 41 ہزار ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق ملک بھر میں اب تک 59 لاکھ 90 ہزار ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
حکومت کے مطابق پاکستان میں حالیہ ہفتوں میں ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ جب کہ احتیاطی تدابیر پر بھی عمل درآمد پر زور دیا جا رہا ہے۔
کرونا ویکسین دنیا میں کب اور کہاں دستیاب ہو سکے گی؟
دوا ساز کمپنیوں فائزر، بائیو این ٹیک، موڈرنا اور ایسترا زنیکا کی تیار کردہ کرونا وائرس ویکسینز کی جانچ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ویکسین کرونا وائرس کو روکنے کے لیے مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔
تاہم اس بات کا امکان کم ہے کہ تمام ممالک کو اس ویکسین کی مطلوبہ تعداد میں خوراکیں فوری طور پر دستیاب ہو سکیں گی۔
ان ممالک میں آسٹریلیا نے ایک کروڑ 40 لاکھ خوراکیں حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔
ان میں سے 38 لاکھ خوراکیں ایسترازنیکا سے جنوری اور فروری میں حاصل کی جائیں گی۔ جب کہ مارچ میں یہ ویکسین لوگوں کی دی جانی شروع ہو گی۔
چین نے مغربی ممالک کے ساتھ ویکسین کی فراہمی کے لیے اب تک کسی سمجھوتے کا اعلان نہیں کیا اور اندرونِ ملک نجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم توقع ہے کہ چین میں ایسترازنیکا کی تیار کردہ کرونا ویکسین کی منظوری 2021 کے وسط تک دے دی جائے گی اور اس کمپنی کی شراکت سے کام کرنے والی چینی کمپنی شین ژین کانگتائی بائیولوجیکل پروڈکٹس اس سال کے آخر تک ویکسین کی 10 کروڑ خوراکیں تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اس کے علاوہ چین کی تین دیگر کمپنیوں کی طرف سے تیارہ کردہ ویکسین کے ہنگامی بنیادوں پر استعمال کی منظوری اس سال کے آخر تک متوقع ہے۔
امریکی پابندیاں ویکسین تک رسائی میں رکاوٹ ہیں: ایران کا الزام
ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے بیرونِ ملک سے ادویات، طبی آلات اور کرونا ویکسین کے حصول میں مشکل پیش آ رہی ہے۔
یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کرونا کی وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔
صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے نیو کلیئر معاہدے سے نکلنے کے بعد سے ایران کے بینکنگ اور آئل اینڈ گیس سیکٹرز پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔
اگرچہ امریکہ کا اصرار ہے کہ ادویات اور انسانی ضروریات کی اشیا کو ان پابندیاں سے استثنیٰ حاصل ہے لیکن تجارت پر پابندیوں کی وجہ سے دنیا بھر کے بینک اور کمپنیاں واشنگٹن کی جانب سے پابندیوں کی وجہ سے ایران کے ساتھ کاروبار سے کترا رہی ہیں۔
روحانی نے سرکاری نیوز ایجنسی 'آئی آر این اے' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک سے ادویات منگوانے کا عمل انتہائی پیچیدہ ہو چکا ہے اور ادائیگیوں میں کئی ہفتے لگ جاتے ہیں۔
روحانی نے کہا کہ حکام پھر بھی ویکسین حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور امید ہے کہ ہائی رسک افراد تک یہ ویکسین جلد از جلد پہنچ جائے گی۔
البانیہ میں کرونا وائرس سے لڑنے کے لیے گدھی کے دودھ کی طلب میں اضافہ
ایسے میں جب عالمی وبا کرونا وائرس کے دنوں میں لوگ صحت کے بارے میں حساس ہیں اور توانائی سے بھرپور غذا ان کی ترجیح ہے۔ ایسے میں البانیہ میں گدھی کے دودھ کی طلب میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق گدھی کے دودھ کے حصول کے لیے باڑوں پر شہریوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ کیوں کہ مقامی افراد اس دودھ کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ یہ وٹامنز سے بھرپور ہے اور انسان کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔
ایک فارم پر گدھوں کی افزائش کی جا رہی ہے۔ جب کہ گدھی کے دودھ کے خریداروں کا ایک ہجوم ایک بوتل کے حصول کے لیے اس فارم کے باہر موجود ہوتا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق البانیہ میں بہت سے لوگ اپنی صحت کو بہتر رکھنے کے جتن کرتے نظر آتے ہیں۔
پیپر نامی گاؤں کے ایک چھوٹے سے فارم میں درجنوں چوپائے موجود ہیں۔ فارم کے 37 سالہ مینیجر ایلٹن ککیا کا کہنا ہے کہ گدھی کے دودھ کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
دودھ کی طلب میں اضافہ گدھوں کی افزائش کرنے والوں کے لیے اچھی خبر ثابت ہوئی ہے۔ جب کہ گدھوں کو بھی اب آرام دہ ماحول میں باڑوں میں رکھا جا رہا ہے۔ جب کہ بوجھ اٹھانے اور بار برداری جیسا روایتی مشکل کام ان سے نہیں لیا جا رہا۔
البانیہ میں گدھے سے عام طور پر پہاڑی راستوں پر بھاری بھر کم گدھا گاڑیاں کھینچنے کا کام لیا جاتا ہے۔