چین میں کرونا کے مزید 24 نئے کیس رپورٹ
چین میں ہفتے کو کرونا وائرس کے مزید 24 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 86 ہزار 725 ہو گئی ہے جب کہ اس وائرس سے اب تک 4634 اموات ہو چکی ہیں۔
چین کی وزارِتِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے پانچ مقامی طور جب کہ 19 افراد میں وائرس سے باہر سے آنے والوں کے ذریعے منتقل ہوا۔
چین میں بغیر علامات کے مثبت آنے والے کیسز کو مصدقہ کیسز میں شمار میں نہیں کیا جاتا۔ ہفتے کو ایسے 17 افراد کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا جب کہ جمعے کو ایسے افراد کی تعداد 14 تھی۔
پاکستان میں کرونا سے مزید 72 اموات
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وبا سے مزید 72 افراد ہلاک جب کہ مہلک وائرس کے مزید 3369 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق ملک بھر میں مجموعی کیسز کی تعداد چار لاکھ 38 ہزار سے بڑھ گئی ہے جب کہ اموات کی تعداد آٹھ ہزار 796 ہو گئی ہے۔
حکام ک مطابق وائرس سے اب تک تین لاکھ 83 ہزار مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں مجموعی طور پر کرونا کے 60 لاکھ سے زائد ٹیسٹس کیے جا چکے ہیں ملک بھر میں زیادہ بیمار مریضوں کی تعداد 2471 ہے۔
امریکہ: کرونا ویکسین کی منظوری میں تاخیر کیوں ہوئی؟
امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے فائزر اور بائیو این ٹیک کے تعاون سے بنائی جانے والی کرونا وائرس کی ویکسین کی منظوری دے دی ہے۔ لیکن امریکہ سے قبل برطانیہ اس کی منظوری دے چکا ہے۔ امریکہ میں کرونا ویکسین کی منظوری میں زیادہ وقت کیوں لگا؟ جانتے ہیں صبا شاہ خان سے۔
امریکہ میں کرونا ویکسین کے استعمال کی منظوری
امریکہ میں انتظامیہ نے جمعے کو کرونا وائرس کی پہلی ویکسین کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی کمپنی فائزر اور جرمن کمپنی بائیو این ٹیک کے تعاون سے بنائی جانے والی ویکسین کی منظوری فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ویکسین کی منظوری کو سراہتے ہوئے اسے طبی معجزہ قرار دیا ہے۔
جمعے کو اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ فائزر کی اس ویکسین کی پہلی خوراک آئندہ 24 گھنٹے میں دی جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ یہ ویکسین تمام امریکیوں کے لیے مفت ہو گی۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ ویکسین لاکھوں زندگیاں بچانے میں کام آئے گی اور جلد ہی عالمی وبا مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔