جرمنی میں 10 جنوری تک لاک ڈاؤن، ویکسینیشن 27 دسمبر سے شروع ہو گی
جرمنی میں دوا ساز ادارے 'فائزر' اور 'بائیو این ٹیک' کی تیارکردہ ویکسین کا استعمال 27 دسمبر سے شروع ہو جائے گا جب کہ کرسمس کے موقع پر وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے 10 جنوری تک لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔
لاک ڈاؤن کے دوران غیر ضروری اشیا کی دکانیں، ریستوران اور بارز بند رہیں گے۔
جرمن حکام نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ وہ 27 دسمبر سے شہریوں کو ویکسین لگانے کا آغاز کر دیں گے۔
پہلے مرحلے میں کیئر سینٹرز میں مقیم معمر افراد کو ویکسین لگائی جائے گی۔
یورپی یونین کے رکن کی حیثیت سے جرمنی کو لازمی طور پر ویکسین کی منظوری کے لیے یورپی میڈیسن ایجنسی کا انتظار کرنا ہوگا۔ توقع ہے کہ منظوری کے حوالے سے 21 دسمبر کو اعلان کردیا جائے گا۔
یورپی یونین کے ایک سینئر عہدیدار نے بدھ کو بتایا کہ یورپی بلاک کی جانب سے 23 دسمبر کو 'فائزر' اور 'بائیو این ٹیک' کو حتمی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔
بائیڈن کو اگلے ہفتے جب کہ پینس کو جمعے کو کرونا ویکسین لگے گی
امریکہ کی مختلف ریاستوں میں شہریوں کو کرونا ویکسین لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔ وہیں اہم شخصیات اور سیاست دانوں کو بھی کرونا ویکسین لگانے کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔
نومنتخب صدر جو بائیڈن کی ٹرانزیشن ٹیم کے مطابق بائیڈن کو اگلے ہفتے کرونا ویکسین لگائی جائے گی۔
امریکی حکام اس کوشش میں ہیں کہ اہم شخصیات اور سیاست دانوں کو ویکسین لگا کر اس پر عوام کا اعتماد بحال کیا جائے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس کو جمعے کو ویکسین لگائی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ بائیڈن اور پینس کو اس لیے پہلے ویکسین لگائی جائے گی تاکہ اس ویکسین کے مؤثر اور مضر اثرات سے پاک ہونے سے متعلق عوامی تحفظات کو دُور کیا جا سکے۔
بدھ کو جارجیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بائیڈن نے کہا کہ وہ ویکسین لگوانے کے لیے لائن نہیں توڑنا چاہتے بلکہ اسے جلد لگوانے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو اس کی افادیت اور اس کے محفوظ ہونے کا ادراک ہو سکے۔
خیال رہے کہ 78 سالہ بائیڈن کرونا وائرس کے 'ہائی رسک' مریضوں کی کیٹیگری میں آتے ہیں جو وبا سے زیادہ بیمار ہو سکتے ہیں۔
نو منتخب صدر نے گزشتہ ماہ انتخابات میں کامیابی کے بعد کرونا وبا کے مقابلے کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیا تھا۔ بائیڈن نے اس ضمن میں ٹاسک فورس کے قیام کے علاوہ تمام شہریوں کو ماسک پہننے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی تھی۔
خیال رہے کہ امریکہ میں اس مہلک وبا کے باعث اب تک تین لاکھ چار ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور یومیہ کیسز کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کو کرونا ویکسین اس وقت لگائی جائے گی جب اُن کے معالج سمجھیں گے کہ یہ بہترین وقت ہے۔ خیال رہے کہ صدر ؒٹرمپ اور اُن کی اہلیہ کرونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔
ابتداً امریکہ میں کرونا ویکسین طبی عملے، فرنٹ لائن ورکرز، نرسز اور نرسنگ ہوم میں مقیم ضعیف افراد کو ترجیحی بنیادوں پر لگائی جا رہی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے کے اختتام تک ویکسین کی 29 لاکھ مزید خوراکیں موصول ہو جائیں گی۔
خیال رہے کہ امریکہ میں امریکی دوا ساز کمپنی 'فائزر' اور جرمن کمپنی 'بائیو این ٹیک' کی منظوری دی گئی تھی جس کے بعد ملک بھر میں اس کی ترسیل کا عمل جاری ہے۔
پاکستان میں کرونا سے مزید 71 اموات
پاکستان میں کرونا وائرس کی دوسری لہر میں شدت آ رہی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 71 افراد اس مہلک وائرس کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 2545 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد مجموعی کیسز چار لاکھ 48 ہزار سے بڑھ گئے ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کرونا کے 40 ہزار سے زائد ٹیسٹس کیے گئے ہیں۔ وائرس سے اب تک تین لاکھ 96 ہزار سے زائد افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔
امریکہ میں 20 منٹ میں نتائج دینے والے کرونا ٹیسٹ کی منظوری
امریکہ میں 20 منٹ کے اندر نتائج دینے والے 'اوور دی کاؤنٹر' کرونا ٹیسٹ کی منظوری دے دی گئی ہے اور اس ٹیسٹ کے لیے ڈاکٹر کی تجویز یا کسی لیب کی ضرورت نہیں ہے۔
فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے فوری نتائج والے اس ٹیسٹ کی منظوری سے متعلق اعلان منگل کو کیا۔
ایف ڈی اے کمشنر اسٹیفن ایم ہان نے ایک پریس ریلیز میں اعلان کیا کہ منگل کو دی گئی منظوری کووڈ-نائنٹین کی ٹیسٹنگ میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
'اوور دی کاؤنٹر' ٹیسٹنگ سے مراد یہ ہے کہ اس ٹیسٹ کے ذریعے ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر یا کسی لیب سے ٹیسٹ کرانے کے بجائے گھر بیٹھے ٹیسٹ کیا جا سکے گا۔
ٹیسٹنگ کی منظوری کے ذریعے ایف ڈی اے نے اس ریپڈ ٹیسٹ کی فارمیسیز یعن ادویات کے اسٹوروں پر فروخت کی بھی اجازت دی ہے جہاں لوگ یہ ریپڈ ٹیسٹ کٹ خرید سکتے ہیں۔