رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

13:48 18.12.2020

کرونا بحران: امریکی تعلیمی ادارے اور طلبہ مشکل میں

امریکہ میں کرونا وائرس کی ویکسین کی آمد سے حالات بہتر ہونے کا انتظار صرف امریکیوں کو ہی نہیں ہے یہاں دنیا بھر سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے والے طلبا کو بھی ہے جن کی امیدوں پر کرونا کی عالمی وبا نے پانی پھیر دیا ہے۔ اس مشکل وقت میں نظام تعلیم میں کیا مسائل سامنے آئے؟ بتا رہے ہیں عمران جدون

کرونا بحران: امریکی تعلیمی ادارے اور طلبہ مشکل میں
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:21 0:00

09:57 18.12.2020

پاکستان میں کرونا سے مزید 83 اموات

پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے مزید 83 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد وائرس کے مجموعی کیسز چار لاکھ 51 ہزار سے بڑھ گئے ہیں۔

پاکستان میں وائرس سے مجموعی اموات نو ہزار 164 ہو گئی ہیں جب کہ چار لاکھ کے لگ بھگ مریض صحت یاب بھی ہو گئے ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کرونا کے 39 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے گئے جب کہ اب تک مجموعی طور پر 62 لاکھ سے زائد ٹیسٹس کیے جا چکے ہیں۔

09:53 18.12.2020

فرانسیسی صدر سے رابطے میں رہنے والے یورپی رہنما قرنطینہ میں چلے گئے

فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں​ کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد حالیہ چند روز کے دوران ان سے ملنے والے یورپی رہنماؤں نے بھی سماجی دُوری اختیار کر لی ہے۔

ان رہنماؤں میں اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سینچز، پرتگال کے وزیر اعظم انتونیا کوستا اور یورپین کونسل کے سربراہ بھی شامل ہیں۔

فرانسیسی صدر نے گزشتہ ہفتے برسلز میں ایک سمٹ جب کہ پیر کو پیرس میں ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کی تھی جس میں کئی یورپی رہنما شریک تھے۔

جرمن حکام کا کہنا ہے کہ چانسلر آنگیلا مرخیل نے برسلز میں ہونے والی کانفرنس کے بعد کرونا ٹیسٹ کرایا تھا جو منفی آیا تھا۔

علاوہ ازیں فرانس کے وزیر اعظم جنہوں نے صدر سے ملاقات کی تھی وہ بھی آئسولیٹ ہو گئے ہیں۔

19:34 17.12.2020

عالمی ادارۂ صحت کی ٹیم جنوری میں چین کا دورہ کرے گی

فائل فوٹو
فائل فوٹو

چین کے شہر ووہان کے شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ عالمی ادارۂ صحت کے مبصرین شہر کے مرکز کا دورہ کریں تاکہ یہ پتا لگایا جا سکے کہ دنیا بھر میں پھیلنے والا کرونا وائرس یہاں سے نہیں پھوٹا۔

عالمی ادارۂ صحت نے جمعرات کو کہا ہے کہ عالمی مبصرین کی ایک ٹیم اگلے سال جنوری میں چین کا دورہ کرے گی۔ یاد رہے کہ دنیا بھر میں پھیلنے والی کرونا وائرس کی وبا تقریباً ایک سال قبل چین کے شہر ووہان سے پھیلی تھی۔

ووہان کے ایک شہری وان نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ عالمی ادارۂ صحت کے مبصرین کو خوش آمدید کہتے ہیں اور وہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ وبا کہاں سے آئی؟

ووہان شہر میں قائم سی فوڈ مارکیٹ، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وبا وہاں سے پھوٹی، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وان نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ یہ وبا اس مارکیٹ سے پھوٹی تھی۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے رواں سال جولائی میں عالمی ادارۂ صحت کی دو رکنی ٹیم نے چین کا دورہ کیا تھا۔ تاہم انہوں نے ووہان کا دورہ نہیں کیا تھا۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG