بھارت آئندہ ہفتے آسٹرازینیکا کی ویکسین کی منظوری دے سکتا ہے: رپورٹ
بھارت برطانوی دوا ساز ادارے آسٹرازینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے اشتراک سے تیار ہونے والی کرونا ویکسین کے ہنگامی استعمال کی منظوری آئندہ ہفتے دے سکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے اپنے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ آسٹرازینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین کی خوراکیں تیار کرنے والی بھارتی کمپنی نے حکام کو تمام ڈیٹا فراہم کر دیا ہے۔ جس کے بعد امید ہے کہ آئندہ ہفتے یہ ویکسین بھارت میں منظور ہو جائے گی۔
'رائٹرز' کے مطابق اسے دو باخبر ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ بھارت آسٹرازینیکا کی ویکسین کی منظوری دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن سکتا ہے۔ جب کہ دوسری جانب برطانیہ میں اس ویکسین کے ٹرائلز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا ابھی تک جائزہ لیا جا رہا ہے کہ یہ ویکسین کتنی مؤثر ہے۔
خیال رہے کہ بھارت دنیا بھر میں سب سے زیادہ ویکسینز تیار کرنے والا ملک ہے۔ آسٹرازینیکا کی ویکسین کی خوراکیں بھارت میں سیرم نامی ایک کمپنی تیار کر رہی ہے جو ویکسین تیار کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔
بھارت میں 'فائزر' اور 'بھارت بائیو ٹیک' نامی کمپنیوں کی تیار کردہ دو مزید ویکسینوں کے استعمال کی اجازت پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
آسٹرازینیکا کی تیار کردہ ویکسین کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ کم آمدنی اور گرم موسم والے ملکوں میں کافی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ کیوںکہ یہ ویکسین دیگر کے مقابلے میں سستی ہے، اس کی ترسیل آسان ہے اور عام ریفریجریٹر کے درجۂ حرارت پر زیادہ عرصے تک محفوظ رکھی جا سکتی ہے۔
بھارت کی 'سینٹرل ڈرگز اسٹینڈرڈ کنٹرول اتھارٹی' نے رواں ماہ تین ویکسینوں کی منظوری کی درخواستوں کا جائزہ لیا تھا اور تمام کمپنیوں کو مزید ڈیٹا فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔
رائٹرز کے ذرائع کے مطابق سیرم نے اتھارٹی کو مکمل ڈیٹا فراہم کر دیا ہے جب کہ فائزر اور بھارت بائیو ٹیک سے مزید ڈیٹا ملنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارت کے محکمۂ صحت کے عہدے دار آسٹرازینیکا کی ویکسین کے معاملے پر اپنے برطانوی ہم منصبوں سے براہِ راست رابطے میں ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ ویکسین کی منظوری آئندہ ہفتے دے دی جائے گی۔
پاکستان میں کرونا سے مزید 83 اموات
کرونا دنیا کے آخری حصے تک بھی پہنچ گیا، انٹارکٹیکا میں بھی کیس رپورٹ
کرونا کی عالمی وبا دنیا کے آخری حصے تک پہنچ گئی۔ برِاعظم انٹارکٹیکا میں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آ گیا۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے چلی کے فوجی حکام کے حوالے سے بتایا کہ انٹارکٹیکا میں قائم ان کے ریسرچ سینٹر میں تعینات 36 اہلکاروں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جن میں 26 فوجی اور 10 سول کانٹریکٹر بھی شامل ہیں۔
یہ شدید سرد علاقہ سارا سال برف سے ڈھکا رہتا ہے اور یہاں درجہ حرارت بھی نقطۂ انجماد سے نیچے رہتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کو دیگر افراد سے الگ کر دیا گیا ہے اور اُن کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
انٹارکٹیکا کے انتہائی شمال میں واقع ریسرچ سینٹر میں اسٹاف سارا سال موجود رہتا ہے اور اسے چلی کی فوج آپریٹ کرتی ہے۔
جرمنی کی بھی برطانیہ اور جنوبی افریقہ سے مسافروں کی آمد پر پابندی
جرمنی نے برطانیہ، شمالی آئر لینڈ اور جنوبی افریقہ سے مسافروں کی آمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے پابندیوں سے متعلق دستاویزات کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ریل، بس، بحری کمپنیوں اور ایئر لائنز سے مسافروں کو مذکورہ ممالک سے جرمنی آنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق برطانیہ میں مقیم جرمن شہری یکم جنوری 2021 سے وطن واپس آ سکیں گے۔ البتہ یہ اس صورت ممکن ہو سکے کہ اگر ایئر لائنز کو حکام نے آپریشنز کی اجازت دی۔