چین کا بھی برطانیہ کے لیے فلائیٹ سروس بند کرنے کا اعلان
چین نے بھی برطانیہ سے فلائیٹس کی آمد پر پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ چین برطانیہ سے طیاروں کی آمد اور روانگی پر پابندی عائد کر دے گا۔
واضح رہے کہ کئی ممالک پہلے ہی برطانیہ سے فلائیٹ سروس پر پابندی عائد کر چکے ہیں۔ چین ان ممالک کی فہرست میں ایک اور اضافہ ہوگا۔
چین کی وزارتِ خارجہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ بیجنگ برطانیہ کے لیے فلائیٹ سروس پر پابندی کب سے عائد کر رہا ہے۔
ایسے افراد جن کے پاس چین کا پاسپورٹ نہ ہو ان پر بیجنگ نے نومبر میں ہی چین آمد پر پابندی عائد کر دی تھی۔
امریکہ میں کرونا ویکسین کے ساتھ ساتھ امدادی پیکیج بھی
امریکہ میں کرونا کی وبا سے نجات کے لیے نو منتخب صدر جو بائیڈن، نائب صدر مائیک پینس، اعلٰٰی عہدے داروں اور دیگر افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کانگریس نے امدادی پیکج کی منظوری بھی دے دی ہے۔ اس پیکج کی تفصیلات جانتے ہیں ندیم یعقوب سے۔
کیا بچوں کو کرونا ویکسین دی جا سکتی ہے؟
ایک ایسے وقت میں جب کہ برطانیہ اور افریقہ میں کرونا وائرس کی ایک نئی قسم پھیلنے کی خبریں آ رہی ہیں، جو نہ صرف کووڈ-19 کے مقابلے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے، بلکہ بچوں پر بھی حملہ کرتا ہے، یہ سوال ابھر رہا ہے کہ کرونا سے بچاؤ کی ویکسین بچوں کو دی جا سکتی ہے؟
فی الحال اس سوال کا جواب انکار میں ہے۔
اس وقت تک امریکہ میں صرف دو ویکسینز کو منظوری ملی ہے جو فائزر اور موڈرنا ہیں۔ یورپ میں بھی فائزر ویکسین لگانی شروع کر دی گئی ہے۔ لیکن یہ ویکسین بچوں کو نہیں دی جا رہی۔
فائزر کا کہنا ہے کہ اس کی ویکسین 16 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد کو دی جا سکتی ہے، کیونکہ ٹیسٹنگ کے مراحل میں اس سے کم عمر کے افراد کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔
فائزر نے اکتوبر سے 12 سال تک کے نوعمر افراد پر ویکسین کے تجربات شروع کر دیے ہیں، تاہم ٹیسٹنگ مکمل ہونے اور اعداد و شمار اکھٹے ہونے میں تقریباً ایک سال لگ سکتا ہے۔ جس کے بعد امریکی ادارہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا اس قدر ڈیٹا موجود ہے جسے سامنے رکھتے ہوئے 12 سال تک کی عمروں کے افراد کو یہ ویکسین دینے کی اجازت دینے پر غور کیا سکے۔
امریکہ میں منظور کی جانے والی دوسری ویکسین موڈرنا کی ہے، جس نے اس مہینے میں ایک اور مطالعے کے لیے 12 سے 17 سال کی عمروں کے رضاکاروں پر ٹیسٹنگ شروع کی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ایک سال تک انہیں اپنے تجربات میں شامل رکھے گی اور ان پر ویکسین کے اثرات کا جائزہ لیتی رہے گی۔ جب کہ 12 سال سے کم عمر بچوں پر ویکسین کی ٹیسٹنگ 2021 کے آغاز میں شروع کیے جانے کی توقع ہے۔
مزید جانیے
صدر ٹرمپ کا کرونا ریلیف بل میں بعض تبدیلیوں کے بغیر دستخط سے انکار
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ وہ سال کے آخر پر امریکی قانون سازوں کے منظور کردہ اس بل پر دستخط نہیں کریں گے جس میں نو سو ارب ڈالر کا کرونا وائرس سے متعلق امدادی پیکج اور 1400 ارب ڈالر کی سالانہ حکومتی فنڈنگ بھی شامل ہے۔
ٹرمپ نے منگل کی رات ایک ویڈیو ٹوئٹ میں کہا کہ زیادہ تر امریکیوں کے لیے صرف 600 ڈالر کی امداد ناکافی ہے۔
صدر کا کہنا ہے کہ وہ کانگریس سے کہیں گے وہ ایک جوڑے کے لیے 600 ڈالر کی امداد کو بڑھا کر دوہزار یا چار ہزار تک لے جائیں۔
صدر کا کہنا تھا "میں کانگریس سے کہوں گا کہ اپنے منظور کردہ بل سے غیر ضروری اور بے کار چیزیں نکال کر مجھے ایک مناسب بل ارسال کرے۔"
ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں نے پیر کو رات گئے بھاری حمایت کے ساتھ یہ بل منظور کیا تھا۔ اراکین کے پاس پانچ ہزار صفحات پر مشتمل بل کی منظوری کے لیے محض چند گھنٹے تھے۔
صدر ٹرمپ سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اس بل پر آئندہ چند دنوں میں دستخط کر دیں گے۔