کرونا کی 'تشخیص' کے لیے چلی کے ایئر پورٹ پر کتے تعینات
چلی کے ایک ہوائی اڈے پر مسافروں میں کرونا کی علامات کا سراغ لگانے کے لیے کتے تعینات کر دیے گئے ہیں جو آنے جانے والے مسافروں کے سامان کو سونگھ کر کرونا وائرس کا سراغ لگاتے ہیں۔
چلی کے سینٹیاگو انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر مسافر صحت کاؤنٹرز پر خصوصی پیڈز رکھے گئے ہیں۔ مسافر اپنی ناک، گردن اور کلائیوں کو اس سے پونچھ کر شیشے کے ایک ڈبے میں ڈال دیتے ہیں جس کے بعد ان سراغ رساں کتوں کا کام شروع ہوتا ہے۔
'گولڈن ریٹریورز' اور 'لیبرا ڈورز' نسل کے یہ کتے ایئر پورٹ پر کرونا کی تشخیص کے لیے حکام کے لیے کافی مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
نشان دہی ہونے پر متاثرہ شخص کو حکام علاج معالجے کی غرض سے اسپتال یا قرنطینہ کے لیے لے جاتے ہیں۔
کرونا کے دور میں کرسمس کی تیاریاں
دنیا بھر میں کرونا وبا کی وجہ سے عائد سماجی پابندیوں کے باعث کرسمس کے رنگ بھی پھیکے پڑ گئے ہیں۔ تاہم لوگ احتیاطی تدابیر کے تحت کرسمس کی خوشیاں منانے کے لیے پرجوش ہیں۔
111: پاکستان میں کرونا کے سبب چھ ماہ کے عرصے میں ایک دن کی ریکارڈ اموات
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس سے مزید 111 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جب کہ گزشتہ چھ ماہ میں کسی ایک دن میں ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے 30 جون کو 118 اموات ہوئی تھیں۔ جب کہ اس کے بعد اموات کی شرح میں بتدریج کمی آئی اور رواں ماہ تک کسی بھی دن 100 یا اس سے زائد اموات نہیں ہوئیں۔
رواں ماہ 15 دسمبر کو 105 اموات ہوئی تھیں۔ جب کہ گزشتہ روز وبا سے مزید 111 افراد ہلاک ہوئے ہیں جو کہ چھ ماہ میں ایک دن میں اموات کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے اب تک 9668 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں ایک دن میں سب سے زیادہ 153 اموات 20 جون کو ہوئی تھیں۔
کیا ویکسین کرونا کی نئی قسم کے لیے بھی کارگر ہو گی؟
امریکہ میں 70 سے 80 فی صد آبادی کو کرونا ویکسین لگانے کا منصوبہ ہے۔ برطانیہ میں کرونا کی نئی قسم کے سامنے آنے کے باوجود ماہرین کو توقع ہے کہ یہی ویکسین نئے وائرس کے لیے بھی کارگر ثابت ہو گی۔ فائزہ بخاری کی رپورٹ