امریکہ: کرونا بحران کے بعد خواتین کا مسقبل کیا ہو گا؟
امریکہ میں کرونا وائرس سے بے روزگار ہونے والوں میں خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ خواتین زیادہ بے روزگار کیوں ہوئیں اور یہ صورتِ حال خواتین کے مستقبل پر کیسے اثر انداز ہو سکتی ہے؟ جانتے ہیں اس رپورٹ میں
بیجنگ میں پابندیاں سخت
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں حکام نے چھٹیوں کے دوران سفر کرنے والوں کی تعداد میں اضافے کے پیشِ نظر کرونا وائرس کے باعث پابندیاں سخت کر دی ہیں۔
بیجنگ میں اتوار کو چوتھے روز کرونا وائرس کے مقامی طور پر منتقل ہونے والے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا۔
دارالحکومت میں کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ کائی کیوئی نے تمام اضلاع کے حکام سے اپیل کی کہ وہ ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ان رہائشی کالونیوں اور دیہاتوں کو سیل کر دیں۔ جہاں سے کرونا کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔
ضلع شونی میں، جہاں سے حال ہی میں رپورٹ ہونے والے کیسز کا تعلق تھا، آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے اور اس کے آٹھ لاکھ شہریوں کے کرونا ٹیسٹ شروع کر دیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لینے والی کرونا وبا چین کے صوبے ہوبی کے شہر ووہان سے پھوٹی تھی۔
سڈنی میں شہری نیو ایئر نائٹ منانے کے لیے بے چین
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ جاری ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کے مکین لگ بھگ 75 لاکھ افراد کو انتظار ہے کہ حکام نیو ایئر نائٹ منانے کی اجازت دی دیں گے یا نہیں۔
ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں کرونا وائرس کے سات کیسز سامنے آئے ہیں۔ جن میں چھ کا براہِ راست تعلق سڈنی کے ساحل سمندر سے تھا۔
خیال رہے کہ سڈنی میں لوگوں کو بدھ تک گھروں میں رہنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔
نیو ساؤتھ ویلز کی پریمیئر گلیڈیز کا صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ انہیں اندازہ ہے کہ جوں جوں نیو ایئر نزدیک آ رہی ہے۔ لوگوں کی بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ ایک دو دن میں واضح ہو جائے گا کہ نیو ایئر نائٹ یا اس کے بعد آنے والے ہفتے کیسے ہوں گے۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا میں 28 ہزار سے زائد افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص کی گئی ہے۔ جن میں سے اکثر کیسز ریاست وکٹوریا سے رپورٹ کیے گئے۔ آسٹریلیا میں وبا سے 908 اموات رپورٹ کی گئیں۔
یورپ کے 45 کروڑ افراد کے لیے دو ارب ویکسین کی خوراکیں
یورپ کے متعدد ممالک میں کرونا وائرس پر قابو پانے کی کوششوں میں ویکسین بڑے لگائے جانے کا عمل اتوار سے شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
یورپ نے کرونا ویکسین فراہم کرنے والی متعدد کمپنیوں سے 45 کروڑ شہریوں کے لیے ویکسین کی دو ارب خوراکیں مہیا کرنے کے معاہدے کیے ہیں۔
معاہدوں کے تحت 18 سال سے زائد عمر کے افراد کو آئندہ برس کے دوران ویکسین لگائی جائیں گی۔
یورپی ممالک میں دنیا کا بہترین طبی نظام موجود ہے۔ اس کے باوجود ویکسی نیشن کے لیے کچھ ممالک ریٹائرڈ ہو جانے والے طبی عملے کو بھی اس عمل میں شامل کریں گے۔ جب کہ بعض ممالک میں ویکسی نیشن کے لیے انجیکشن لگائے جانے سے متعلق قوانین میں نرمی کی جائے گی۔
کئی ممالک میں ہونے والے سروے میں ویکسین سے متعلق خدشات کی بھی نشان دہی ہوئی ہے۔ جن کو دیکھتے ہوئے 27 یورپی ممالک کے رہنما ویکسین کو معمول کی زندگی کی طرف واپسی کے لیے بہترین موقع قرار دے رہے ہیں۔