پاکستان میں مزید 71 اموات، 2400 سے زائد نئے کیسز رپورٹ
چین میں پہلی کرونا ویکسین کی منظوری، پاکستان 12 لاکھ خوراکیں خریدے گا
چین نے عوامی سطح پر استعمال کے لیے پہلی کرونا وائرس ویکسین کی منظوری دے دی ہے جو سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والی دوا ساز کمپنی 'سائنو فارم' نے تیار کی ہے۔
حکومتِ پاکستان نے بھی مذکورہ ویکسین کی 12 لاکھ خوراکیں خریدنے کا آرڈر دے دیا ہے۔
پاکستان کے وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے جمعرات کو ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ کابینہ کمیٹی نے ابتدائی طور پر 'سائنو فارم' سے ویکسین کی 12 لاکھ خوراکیں حاصل کرنے کی منظوری دی ہے جو 2021 کی پہلی سہ ماہی تک طبی ورکرز اور دیگر فرنٹ لائن کارکنوں کو ترجیحاً لگائی جائے گی۔
فواد حسین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نجی شعبہ اگر کوئی اور بین الاقوامی طور پر منظور شدہ ویکسین درآمد کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کی بھی اجازت ہو گی۔
پاکستان نے رواں ماہ کے اوائل میں کرونا ویکسین کی خریداری کے لیے 15 کروڑ ڈالرز مختص کیے تھے۔
عالمی معیشت کی بحالی کیلئے آئندہ سال ویکسین کا وسیع استعمال ضروری ہو گا
کرونا بحران نے 2020 کے آغاز سے ہی دنیا کو سفری بندشوں اور محدود اقتصادی سرگرمیوں کی طرف دھکیلنا شروع کردیا تھا۔
لیکن موسم بہار میں وائرس کے تیزی سے پھیلنےکے بعد عالمی وباکی صورت اختیار کر لینےکے اس کثیرالجہتی بحران نےاقتصادی ترقی کے پہیے کی رفتار کو مزید سست حتی کہ کئی مقامات پر جامد کر دیا۔
یوں دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پزیر مما لک کو بلا تفریق مشترکہ معاشی اور اقتصادی نقصانات کی شکل میں بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ اور دنیا کی عظیم ترین معیشتوں سمیت بہت سے ممالک میں ترقی کی شرح منفی رہنے کی پیشگوئی کی گئی۔
عالمی معیشت کو سال بھر کی پابندیوں اور اقتصادی سست روی سے ہونے والے نقصان کا ابھی حتمی تخمینہ تو سامنے نہیں آیا لیکن اس ہفتے جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مختلف عالمی اداروں کی جانب سے نقصان کے بار ے میں کچھ اعدادو شمار پیش کیے ہیں۔
کرونا کے مریض کے لیے بھی ویکسین ضروری کیوں؟
امریکہ میں کرونا سے متاثرہ مریضوں کو بھی ویکسین لگوانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ کیا کرونا ہو جانے کے باوجود بھی ویکسین لگوانا ضروری ہے؟ جانتے ہیں ورجنیا میں پھیپھڑوں کے امراض کے ماہر راشد نیر سے جو خود بھی کرونا کا شکار ہوئے۔۔