نیا سال اور کرونا وائرس کے بحران میں زندگی کو معمول پر لانے کا سوال
آخر ہم معمول کی زندگی کی طرف کب لوٹیں گے اور کیا ہم ایسا کر بھی پائیں گے؟
سال بھر جاری رہنے والے کرونا بحران کے باعث یہ سوال ہر زباں پر ہے اور خاص طور پر جاتے سال کے آخری لمحوں میں جب دنیا ایک نئے سال میں داخل ہو رہی ہے لوگ اس کے بارے میں زیادہ فکر مند دکھائی دیتے ہیں۔
یہی نہیں بلکہ زندگی کے انداز اور اس کی رفتار کو ماند کرنے والے سال نے اس بحران سے جڑے اور بھی بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔
کیا اس مہلک مرض سے بچاؤ کی ویکسینز موثر ثابت ہوں گی؟ ان ویکسینز سے مضبوط ہونے والی قوت مدافعت کب تک ہمیں بچائے گی؟ کیا ہم اتنے لوگوں کو ویکسین دے پائیں گے کہ ہم اس وائرس سے نجات پا سکیں؟ کیا وائرس اپنی شکل تبدیل کرتا رہے گا اور سائنس دانوں کو اس کو زیر کرنے کی کوششوں میں الجھائے رکھے گا؟
اور جب ہم وائرس سے چھٹکارا پا لیں گے تو کیا عالمی وبا سے متاثر سیاسی، سماجی اور اقتصادی مشکلات کا مطلب یہ تو نہیں ہو گا کہ ہم اس بحران سے پہلے کی طرح نارمل زندگی کی طرف کسی طور لوٹ ہی نہیں پائیں گے؟
مزید یہ کہ کیا ہمار مقصد محض زندگی کو اس وقفے کے بعد پھر سے پہلے کی ڈگر پر ڈالنا ہے؟
پاکستان: کرونا کی دوسری لہر میں ری انفیکشن کے کیسز بھی
پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر کے دوران ری انفیکشن کے کیسز بھی رپورٹ ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب مختلف لیبارٹریز سے کرائے گئے ٹیسٹس کے مختلف نتائج بھی ابہام پیدا کر رہے ہیں۔ نذر الاسلام نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کرونا کا کیس کب 'ری انفیکشن' کے زمرے میں آتا ہے اور ٹیسٹس کے نتائج میں فرق کیوں ہوتا ہے؟
عالمی وبا کے باعث نئے سال کی زیادہ تر استقبالیہ تقریبات منسوخ
دنیا بھر میں کرونا وائرس کی عالمی وبا سے بچاؤ کے لیے عائد پابندیوں کے باعث نئے سال کا استقبال روایتی انداز میں نہیں کیا جا رہا۔ اکثر ممالک میں نئے سال کی خصوصی تقریبات یا تو منسوخ کر دی گئی ہیں یا بہت محدود تعداد میں لوگوں کو شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں جہاں نئے سال کے جشن کا آغاز ہوتا ہے، وہاں حکام نے لوگوں سے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی پابندیوں کے پیش نظر اپنے گھروں میں رہیں۔ سڈنی برج پر نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے لیے لوگوں کی ایک مختصر تعداد کو آنے کی اجازت دی گئی ہے۔
نیا سال 2021 اس بار امریکہ میں نئے صدر کے استقبال کا سال بھی ہے۔ جو بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کے لئے کانگریس کا اجلاس چھ جنوری کو ہو گا۔ جب کہ ری پبلکن پارٹی کے سینیٹر جوش ہالی نے کہا ہے کہ وہ کانگریس میں الیکٹورل کالج سے بائیڈن کی کامیابی پر اعتراض اُٹھائیں گے۔بائیڈن کی نامزد کردہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی کا کہنا ہے کہ بائیڈن 20 جنوری کو ہی صدارت کا حلف اُٹھائیں گے۔
نیو یارک کا ٹائمز سکوائر نئے سال کی تقریبات اور نیو ائیر بال ڈراپنگ کیلئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ مگر اس مرتبہ ان تقریبات کیلئے لوگوں کو ٹائمز سکوائر میں جانے کی اجازت نہیں ہے، ماسوائے ان چند درجن فرنٹ لائن ورکرز کے جو کرونا وائرس کی اس وبا کے دوران خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
موسم خزاں تک امریکہ بڑی حد تک کرونا وائرس پر قابو پا لے گا، ڈاکٹر فاؤچی
وبائی امراض کے ماہر معروف امریکی ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اگلے سال 2021 کے موسم خزاں تک کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر بڑی حد تک قابو پا لے گا اور روزمرہ زندگی کے معمولات بہت حد تک نارمل ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی امریکی عوام میں عالمی وبا کے خلاف قوت مدافعت بڑھنے کے سبب حاصل ہو گی جس کی ایک بڑی وجہ ویکسین کی فراہمی ہے۔
ڈاکٹر فاؤچی نے ان خیالات کا اظہار ریاست کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسم کے ساتھ ایک گفتگو کے دوران کیا۔ یہ گفتگو اس بارے میں تھی کہ برطانیہ میں پھیلنے والے کرونا وائرس کی نئی قسم کے کچھ مریضوں کی امریکہ میں نشاندہی ہوئی ہے جس کا پہلا کیس کولوراڈو میں سامنے آیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ کرونا کی نئی قسم بی ون ون سیون کے ایک اور مریض کی تصدیق کیلی فورنیا کے جنوبی حصے میں ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی۔
جب کہ محکمہ صحت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سین ڈیاگو کاؤنٹی کے جس شخص میں کرونا وائرس کی نئی قسم کی شناخت ہوئی ہے، اس نے حالیہ عرصے میں کوئی سفر نہیں کیا، جس سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وائرس کہیں باہر سے آیا ہے۔