کرونا پابندیاں: بعض بھارتی کرکٹرز کا چوتھے ٹیسٹ کے لیے برسبین نہ جانے کا عندیہ
آسٹریلوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان 15 سے 19 جنوری تک برسبین میں شیڈول چوتھے ٹیسٹ میچ کا انعقاد غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہو گیا ہے۔
ریاست کوئنز لینڈ کے حکام کی جانب سے کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے عائد سخت پابندیوں کی وجہ سے بعض بھارتی کھلاڑیوں نے برسبین کا سفر نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بھارتی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی گزشتہ چھ ماہ سے آئی پی ایل اور کرکٹ کی دیگر مصروفیات کی وجہ سے سماجی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ تاہم نیو ساؤتھ ویلز میں مقامی سطح پر آٹھ نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد کوئنز لینڈ حکام نے اس سے ملحقہ سرحدیں بند کر دی ہیں۔
کوئنز لینڈ حکام کا کہنا ہے کہ کرونا ہاٹ اسپاٹ سے آنے والوں کے لیے قرنطینہ کی پابندی ضروری ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کرکٹ آسٹریلیا کو اس سے متعلق کھلاڑیوں سے بات چیت کرنی چاہیے۔
تاہم کرکٹ آسٹریلیا کے ساتھ مذاکرات کے بعد کوئنز لینڈ حکام نے دونوں ٹیموں کو چوتھے ٹیسٹ کے لیے برسبین آنے کی اجازت دی ہے تاہم اس سے قبل اُنہیں سڈنی میں قرنطینہ کرنا پڑے گا۔
بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان تیسرا ٹیسٹ جمعرات سے سڈنی میں شروع ہو رہا ہے جس کے لیے ٹیمیں پیر کو سڈنی پہنچ رہی ہیں۔
امریکہ میں کرونا سے ہلاکتیں 350000 سے متجاوز، کیلی فورنیا کے مردہ خانوں میں جگہ کم
دنیا بھر میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ میں وبا کے سبب ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
دوسری طرف ہلاکتوں میں اضافے کی وجہ سے جنوبی کیلی فورنیا کے مردہ خانوں میں جگہ کم پڑنے لگی ہے۔
امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق امریکہ میں دو کروڑ سے زائد افراد اب تک اس وبا سے متاثر ہو چکے ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق امریکہ میں وبا کے باعث سب سے زیادہ 38 ہزار ہلاکتیں ریاست نیو یارک میں ہوئی ہیں جب کہ کیلی فورنیا میں اب تک 26 ہزار سے زائد اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
امریکہ میں کرونا ویکسین لگائے جانے کا عمل بھی جاری ہے اور صحت کے نگران ادارے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کا ہفتے کو کہنا تھا کہ اب تک 42 لاکھ سے زائد خوراکیں لگائی جا چکی ہیں جب کہ ایک کروڑ 30 لاکھ خوراکیں تقسیم کی جا چکی ہیں۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کا تازہ ترین ڈیٹا بتاتا ہے کہ دنیا بھر سے رپورٹ ہونے والے آٹھ کروڑ 46 لاکھ کیسز میں سے ایک چوتھائی کیسز امریکہ میں رپورٹ ہوئے ہیں۔
دوسری طرف ایسو سی ایٹڈ پریس نے خبر دی ہے کہ عالمی وبا کے سبب ہونے والی ہلاکتوں کی وجہ سے جنوبی کیلی فورنیا کے مردہ خانوں میں جگہ کم پڑنے لگی ہے۔
وبا سے ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے کہا جا رہا ہے کہ مردہ خانوں میں جگہ ختم ہونے کی وجہ سے وہ ان کے پیاروں کی لاشیں رکھنے سے قاصر ہیں۔
کیلی فورنیا میں مردہ خانوں کی ایسوسی ایشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کرونا وبا سے ہونے والی ہلاکتوں کے باعث ان کے پاس جگہ ختم ہو گئی ہے۔
روس میں آٹھ لاکھ افراد کو کرونا ویکسین لگا دی گئی
روس کے وزیرِ صحت میخائل موراشکو کا کہنا ہے کہ اب تک آٹھ لاکھ سے زائد افراد کو کرونا ویکسین لگائی جا چکی ہے۔
روس دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں چوتھے نمبر پر ہے اور یہاں پچھلے سال دسمبر کے اوائل میں ‘اسپتنک فائیو' کرونا ویکسین لگانے کا عمل شروع کیا گیا تھا۔
روس میں رواں سال یکم جنوری سے کرونا ویکسین لگوانے والوں کا ڈیٹا بیس بنانے کے لیے ایک الیکٹرک ویکسی نیشن سرٹیفیکٹ جاری کیا جائے گا۔
اسپتنک ویکسین کی دو خوراکیں 21 دنوں کے وقفے سے لگائی جا رہی ہیں۔
روس میں ہفتے کو کرونا وائرس کے 26 ہزار سے زائد نئے کیس رپورٹ کیے گئے جس کے بعد اس وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 32 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
کرونا وائرس کے سبب روس میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران 447 اموات ہوئیں۔ وبا سے روس میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 58 ہزار سے زائد ہے۔
سعودی عرب نے سفری پابندیاں ختم کر دیں
سعودی عرب کی جانب سے گزشتہ ماہ برطانیہ میں کرونا کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد ملک میں داخلے پر عائد پابندی ختم کر دی گئی ہے جس کے بعد بیرون ممالک سے سعودی عرب کے لیے فلائٹ آپریشن بھی بحال ہو گیا ہے۔
فلائٹ آپریشن کی بحالی کے بعد پاکستان سے سعودی عرب جانے والی پروازیں بھی بحال کر دی گئیں ہیں۔
سعودی حکام کے مطابق وائرس کی نئی قسم سے متاثرہ ممالک بشمول برطانیہ اور جنوبی افریقہ سے سعودی عرب میں داخلے کے خواہش مند مسافروں کو 14 روز ان ممالک سے باہر قرنطینہ میں گزارنا ہوں گے۔
چودہ روز بعد مسافر کو دوبارہ ٹیسٹ کرانا ہوں گے جس کے بعد وائرس فری مسافر کو ہی ملک میں آنے کی اجازت ہو گی۔
پاکستان کی قومی ایئر لائن کے حکام کے مطابق پابندی کے خاتمے کے بعد پاکستان سے سعودی عرب کے لیے فلائٹ آپریشن بحال کر دیا گیا ہے۔