واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانہ کرونا کے خطرے کے باعث تین روز کے لیے بند
واشنگٹن میں قائم پاکستانی سفارت خانے میں کرونا وائرس کا ایک ممکنہ مریض سامنے آنے کے بعد اسے تین روز کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
سفارت خانے کے جاری کردہ ایک نوٹی فکیشن کے مطابق چار سے چھ جنوری تک سفارت خانے میں قونصلر آفس کی خدمات سمیت تمام سرگرمیاں معطل رہیں گی۔ تاہم اس دوران ویزہ کے اجرا اور پاسپورٹ کی تجدید کی آن لائن خدمات بدستور جاری رہیں گی۔
نوٹی فکیشن کے مطابق سفارت خانے کی بندش کے دوران پوری عمارت میں جراثیم کش اسپرے کیا جائے گا اور تمام عملے کے کرونا ٹیسٹ لیے جائیں گے۔ جس کے بعد ہی سفارت خانے میں سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا جا سکے گا۔
نوٹی فکیشن کے مطابق اس دوران ویزہ اور پاسپورٹ کی تجدید کے لیے کی گئی ای میل کے جواب بھی دیے جائیں گے اور ضروری اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
میکسیکو میں کرونا ویکسین کے استعمال کی اجازت
میکسیکو نے دوا ساز کمپنی ایسٹرا زینیکا اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی مشترکہ طور پر تیار کردہ کرونا وائرس ویکسین کو ملک میں ہنگامی طور پر استعمال کی اجازت دے دی ہے۔
میکسیکو کرونا وائرس سے بدترین متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے جہاں وبائی مرض سے بڑے پیمانے پر اموات ہو چکی ہیں۔
نائب وزیرِ صحت ہیوگو لوپیز گیٹیل نے ٹوئٹر پر جاری ایک اعلان میں کہا ہے کہ میکسیکو کی دوا ساز کمپنیوں کے نگراں ادارے نے ایسٹرا زینیکا اور آکسفورڈ کی تیار کردہ ویکسین کی منظوری دی ہے اور یہ ویکسین ممکنہ طور پر مارچ میں دستیاب ہو گی۔
اس ویکسین کے استعمال کی اجازت میکسیکو سے قبل برطانیہ، بھارت اور ارجنٹائن کی حکومتیں بھی دے چکی ہیں۔
میکسیکو میں 24 دسمبر کو فائزر اور بائیو این ٹیک ویکسین کی مہم شروع کی گئی تھی جس کے تحت پہلے مرحلے میں طبی کارکنوں کو ویکسین لگائی گئی تھی۔ اب تک مجموعی طور پر 30 ہزار کارکنوں کو یہ ویکسین دی جا چکی ہے۔
میکسیکو نے ایسٹرا زینیکا کے ساتھ ویکسین کی سات کروڑ 74 لاکھ خوراکیں خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ حکومت نے تقریباً 12 کروڑ 90 لاکھ افراد کو یہ ویکسین مفت فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
برطانیہ میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ
برطانیہ میں ایک مرتبہ پھر لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے جس کے تحت تمام اسکولز اور غیر ضروری دکانوں کو بند کیا جا رہا ہے۔
برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ فروری کے وسط تک گھروں سے باہر نکلنے سے اجتناب کریں۔
بورس جانسن نے پیر کو قوم سے خطاب میں کہا کہ اگر ہر فرد حکومتی ہدایات پر عمل کرے تو وہ امید کرتے ہیں کہ لاک ڈاؤن جلد اٹھا لیا جائے گا۔
وزیرِ اعظم جانسن نے لاک ڈاؤن کا اعلان ایسے موقع پر کیا ہے جب ایک روز قبل ہی محکمۂ صحت کے حکام نے تصدیق کی تھی کہ کرونا وائرس کی دوسری قسم تیزی سے سرایت کر رہی ہے اور یہ عالمی وبا سے زیادہ خطرناک ہے۔
یاد رہے کہ برطانیہ میں صحت کے شعبے سے وابستہ افراد اور بزرگوں کو کرونا وائرس کی ویکسین لگانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کا 11 جنوری سے اسکول کھولنے کا اعلان
وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود کی جانب سے تعلیمی ادارے 18 جنوری سے مرحلہ وار کھولنے کے اعلان پر پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا نے کہا ہے کہ حکومت اب بھی تاریخوں میں توسیع کر رہی ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کاشف مرزا نے کہا کہ ملک بھر کے تعلیمی ادارے سردیوں کی چھٹیوں کے بعد 11 جنوری کو کھولنے کی تاریخ دی گئی تھی۔ لیکن اب یکساں نصاب کو رائج کرنے کے لیے حکومت تاریخ میں توسیع کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ کا بہت نقصان ہو رہا ہے۔ بچوں کا ایک سال میں بہت نقصان ہو چکا ہے۔ اگر چھ ماہ تک اسکول بند رہیں تو بچوں کا نقصان پانچ سال تک پورا نہیں ہو سکتا۔ یہاں ایک سال ہونے کو آیا ہے اور اسکول بند ہیں۔
کاشف مرزا نے کہا کہ ہم 11 جنوری سے تمام پرائیویٹ اسکول کھول دیں گے کیوں کہ کرونا وائرس کی وجہ سے 10 ہزار اسکول مستقل بند ہو چکے ہیں اور ہزاروں اساتذہ بے روزگار ہیں۔ اگر ایسے ہی اسکول بند رہے تو مزید 25 ہزار اسکول مستقل بند ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ اسکولز اس وقت حکومت کی ذمہ داری اٹھا رہے ہیں، لاکھوں بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ اسکول کھولیں اور تمام بچوں کو اسکولوں میں لایا جائے۔