چین میں کرونا وائرس دوبارہ سر اٹھانے لگا
چین میں پانچ ماہ بعد کرونا وائرس کے ریکارڈ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہیبے صوبے میں کرونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ بیجنگ میں بھی کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے پیر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ روز ہیبے صوبے میں کرونا کے 85 کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ دارالحکومت بیجنگ میں ایک اور لیوننگ صوبے میں دو کیسز رپورٹ ہوئے۔
اسی طرح چین میں بیرونِ ممالک سے آنے والے 18 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
چین میں اتوار کو مجموعی طور پر 103 کیسز رپورٹ ہوئے جو 30 جولائی کے بعد رپورٹ ہونے والے کیسز کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
یاد رہے کہ آخری مرتبہ 30 جولائی کو چین میں 127 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
حکام نے عالمی وبا پر قابو پانے کے لیے ہیبے صوبے کے شہر شیزجیاہانگ میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے جب کہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند کر دی ہے۔
کرونا وائرس کے پھیلنے کے خدشے کے پیشِ نظر ہیبے ہائی وے اتھارٹی نے صوبے میں ہائی وے کے مختلف سیکشنز کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے اور ہائی وے کی جانب آنے والی گاڑیوں کو دوبارہ واپس جانے کا کہا ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق چین کے شمال مشرقی صوبے ہیلونگ جیانگ کی وانگ کوئی کاؤنٹی میں کرونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد پیر سے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔
حکام نے غیر ضروری کاروبار اور ٹریفک پر پابندی لگا دی ہے اور شہریوں کو بھی کاؤنٹی سے باہر نہ جانے کی ہدایت کی ہے۔
بھارت میں 16 جنوری سے کرونا ویکسی نیشن کا فیصلہ
امریکہ کے بعد کرونا وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بھارت میں کرونا ویکسین لگانے کا عمل رواں ماہ 16 جنوری سے شروع ہو گا۔
بھارتی حکومت کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق کرونا ویکسین لگائے جانے میں فوقیت طبی شعبے سے منسلک 3 کروڑ افراد کو دی جائے گی۔
بیان کے مطابق بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ہفتے کو کرونا ویکسین لگائے جانے سے متعلق کیے گئے انتظامات کا جائزہ لیا۔
بھارت کی کل ایک ارب 35 کروڑ آبادی میں سے 30 کروڑ آبادی کو رواں سال کے پہلے چھ سے آٹھ ماہ میں فری کرونا ویکسین لگائی جائے گی۔
بھارت میں ہفتے کو مزید 18 ہزار سے زائد افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص کی گئی۔
بھارت میں اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد اموات اس وبا کے سبب ہو چکی ہیں۔
خیال رہے کہ بھارت میں دو کرونا ویکسینز کی ایمرجنسی استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ جن میں ایک ‘آسترازینیکا’ اور ‘آکسفرڈ یونیورسٹی’ کی تیار کردہ ہے۔ جب کہ دوسری ویکسین مقامی کمپنی ‘بھارت بائیو ٹیک’ نے تیار کی ہے۔
پاکستان میں کرونا کیسز پانچ لاکھ سے متجاوز
پاکستان میں اتوار کو کرونا سے متاثر ہونے والے مصدقہ مریضوں کی تعداد پانچ لاکھ سے بڑھ گئی ہے جب کہ اس مہلک وائرس سے اب تک 10 ہزار 644 اموات ہو چکی ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں مزید 2899 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی کیسز پانچ لاکھ دو ہزار 416 ہو گئے ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 44 ہزار 410 ٹیسٹس کیے گئے۔ ملک میں 2278 افراد انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں زیرِ علاج ہیں۔
پاکستان میں اب تک 70 لاکھ سے زائد کرونا ٹیسٹس کیے جا چکے ہیں۔
ایران امریکہ یا برطانیہ سے کرونا ویکسین درآمد نہیں کرے گا: خامنہ ای
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک میں کرونا کیسز بڑھنے کے باوجود امریکہ اور برطانیہ کو 'ناقابلِ اعتبار' قرار دیتے ہوئے اپنی حکومت پر ان ممالک سے کرونا ویکسین درآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کا جمعے کو برطانیہ اور امریکہ کے عزائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ یہ دونوں ملک دیگر ممالک میں کرونا وائرس پھیلانا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران قابلِ اعتبار ممالک سے ویکسین حاصل کرے گا۔
ان کی طرف سے ویکسین حاصل کرنے سے متعلق تفصیلات تو فراہم نہیں کی گئیں۔ تاہم چین اور روس دونوں ملک ایران کے اتحادی ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر کا 1980 اور 1990 کی دہائی میں سامنے آنے والے 'بلڈ اسکینڈل' میں فرانس کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ فرانس کی کرونا ویکسین بھی قابل بھروسہ نہیں ہو گی۔