کیوبا ایران کے ساتھ مل کر ویکسین بنا رہا ہے
کیوبا نے کہا ہے کہ اس نے ایک معاہدے کے تحت ایران کے ساتھ اپنی جدید ترین ویکسین کی ٹیکنالوجی شیئر کی ہے اور کیوبا اس ویکسین کے حتمی ٹرائل ایران میں مکمل کرے گا۔
دونوں ممالک پر امریکہ کی سخت تجارتی پابندیاں ہیں۔ اگرچہ ادویات کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہے لیکن بڑی ادویات ساز کمپنیوں کو ان ممالک سے لین دین میں مشکلات پیش آتی ہیں اور ان دونوں ممالک کو نقد ادائیگیوں میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
ایران نے دسمبر میں اپنی کرونا وائرس کی ویکسین کے انسانی ٹرائل شروع کیے تھے جب کہ کیوبا اس وقت چار ویکسینز پر کام کر رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کیوبا کی سب سے جدید ویکسین 'سوبرنا 2' کے فیز ٹو کے ٹرائل جو 22 دسمبر سے شروع ہوئے تھے، مکمل ہونے پر فیز تھری میں ڈیڑھ لاکھ لوگوں پر اس کا ٹرائل کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں کیا جائے گا۔
کیوبا کی کرونا وائرس کے خلاف عمدہ مینیجمنٹ کی بدولت حکام کرونا ویکسین کے کسی دوسرے ملک میں بھی تجربات کرنا چاہتے ہیں۔
کرونا کی عالمی وبا میں شدت: پابندیاں، لاک ڈاؤن، کرفیو
دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وجہ سے اموات کی مجموعی تعداد 20 لاکھ تک پہنچنے والی ہے۔ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے دنیا بھر میں سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں کیا صورتِ حال ہے؟ جانیے اس رپورٹ میں۔
امریکہ میں یومیہ ہلاکتوں کا نیا ریکارڈ
امریکہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے چار ہزار 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جو ملک میں عالمی وبا کے آغاز سے اب تک کی ریکارڈ تعداد ہے۔
جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں منگل کو 4327 افراد کرونا وائرس کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے جب کہ دو لاکھ سے زائد نئے کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
امریکہ میں کرونا وائرس سے اموات کی مجموعی تعداد تین لاکھ 80 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ کیسز دو کروڑ 28 لاکھ سے زیادہ ہیں۔
بھارت 'دنیا کے سب سے بڑے ویکسینیشن پروگرام' کے لیے تیار
بھارت میں 16 جنوری سے کرونا وائرس کی ویکسینیشن کے پروگرام کا آغاز ہو رہا ہے۔ نئی دہلی کی حکومت اس پروگرام کو دنیا کی سب سے بڑی ویکسینیشن مہم قرار دے رہی ہے۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پہلے مرحلے میں 30 کروڑ افراد کو ٹیکے لگانے کی تیاری کی گئی ہے۔ توقع ہے کہ جولائی تک یہ کام مکمل ہو جائے گا۔
بھارتی حکومت پہلے ہی دو ویکسین کے ہنگامی اور محدود استعمال کی اجازت دے چکی ہے۔
دوا ساز کمپنی آکسفورڈ کی ویکسین 'کووی شیلڈ' جسے پونے میں واقع سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ایس آئی آئی) نے تیار کیا ہے، اسے ویکسینیشن مہم کے دوران عوام کو لگایا جائے گا۔
دوسری ویکسین 'کوویکسین' ہے جسے حیدرآباد میں واقع 'بھارت بائیو ٹیک' نے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے۔ یہ ویکسین مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کی گئی ہے۔
گزشتہ دنوں جب بھارتی حکومت نے 'کوویکسین' کے استعمال کی اجازت دی تھی تو بعض حلقوں کی جانب سے اس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔